Bharat Express DD Free Dish

Labourers appealing for help to return home: افریقی ملک تیونس میں پھنسے  جھارکھنڈ کے 48 مزدور ،  ویڈیو جاری کر کے وطن واپسی کی کری فریاد

افریقی ملک تیونس کی ایک کمپنی میں دیہاڑی مزدوری کرنے گئے جھارکھنڈ کے 48 مزدوروں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ کمپنی ان سے زبردستی کام کروا رہی ہے، لیکن گزشتہ تین مہینوں سے انہیں مزدوری کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔

تیونس میں پھنسے مزدوروں نے ایک ویڈیو جاری کر کے حکومت ہند اور ریاست جھارکھنڈ  کی حکومت سے جلد از جلد وطن واپسی کی فریاد کی ہے۔ ویڈیو میں مزدوروں نے بتایا کہ کمپنی نے ان کے پاسپورٹ اپنے قبضے میں رکھ لیے ہیں اور انہیں کمپنی کے احاطے سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ مزدوروں نے کہا کہ ان کی مالی حالت اتنی خراب ہو گئی ہے کہ اب کھانے پینے کا انتظام بھی ممکن نہیں رہا۔

ہزاری باغ، گیرڈی اور بوکارو کے مزدور

مزدوروں نے بقیہ اجرت کی فوری ادائیگی اور محفوظ وطن واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ تیونس میں پھنسے 48 مزدوروں میں ہزاری باغ کے 19، گیرڈی کے 14 اور بوکارو کے 15 مزدور شامل ہیں۔ ان کی شناخت امر دیپ چودھری، جیو دھن مہتو، دھانیشور مہتو، جاگیشور کمار مہتو، گووند کمار مہتو، نند لال مہتو، سنتوش مہتو، گروچرن مہتو، اجے کمار، انیل کمار، گوپال مہتو، راجیش کرمالی، لالو کرمالی اور دیگر کے طور پر ہوئی ہے۔

سماجی کارکن  سنکندر علی کی اپیل

مہاجر مزدوروں کے مسائل پر کام کرنے والے سماجی کارکن سکندر علی نے اس معاملے میں مرکزی اور ریاستی حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک جھارکھنڈ کے مزدوروں کے پھنسنے کے واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔

ریاستی حکومت سے نظام بہتر بنانے کی اپیل

سکندر علی نے وزارتِ خارجہ سے ان مزدوروں کی محفوظ واپسی یقینی بنانے کی اپیل کی اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے بیرونِ ملک روزگار کے نظام کو مضبوط کیا جائے اور ریاست میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو ترجیح دی جائے، تاکہ مزدوروں کو وطن چھوڑنے پر مجبور  نہ ہونا  پڑے۔ افسران کے مطابق، ریاستی حکومت نے اس معاملے کی اطلاع مرکز کو بھیج دی ہے اور تیونس میں واقع بھارتی سفارت خانے سے مزدوروں کی حالت کی تصدیق اور فوری مدد فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read