Bharat Express DD Free Dish

World Most Powerful Military Drones: امریکہ، چین یا ترکیہ؟ جانیے کس ملک کے پاس ہے سب سے طاقتور ڈرون سسٹم

ڈرون اب جدید جنگ اور سکیورٹی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ امریکہ جدید ترین فوجی ڈرونز اور تکنیکی صلاحیت کے معاملے میں مضبوط پوزیشن رکھتا ہے، جبکہ چین بڑے پیمانے پر یو اے وی ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے۔ ترکیہ نے بائراکتار جیسے ڈرونز کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنائی ہے۔ بھارت بھی مقامی ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید یو اے وی سسٹمز کے ذریعے اپنی فوجی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔

آج کی جنگ میں فوجی طاقت کا اندازہ صرف ٹینک، توپ اور فائٹر جیٹ سے نہیں لگایا جاتا۔ ڈرونز نے جنگ کے طریقۂ کار کو بڑی حد تک تبدیل کر دیا ہے۔ نگرانی اور خفیہ معلومات جمع کرنے سے لے کر دشمن کے ٹھکانوں پر درست حملے تک، ڈرونز کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔ کچھ ڈرونز ہتھیاروں سے لیس ہو کر اہداف کو نشانہ بناتے ہیں، جبکہ کچھ کو دھماکا خیز مواد سے لیس کرکے براہِ راست ہدف تک پہنچایا جاتا ہے۔ امریکہ، چین، ترکیہ، اسرائیل اور ایران نے اس شعبے میں اپنی مضبوط صلاحیتیں تیار کی ہیں۔ بھارت بھی مقامی ڈرون سسٹمز پر تیزی سے کام کر رہا ہے اور طویل فاصلے تک نگرانی اور حملے کی صلاحیت بڑھانے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ دنیا کے کن ممالک کے پاس طاقتور ڈرون سسٹمز موجود ہیں۔

امریکہ کے طاقتور ڈرون

ڈرون کے شعبے میں امریکہ طویل عرصے سے آگے رہا ہے۔ اس کے پاس MQ-9 Reaper اور RQ-4 Global Hawk جیسے کئی جدید ڈرونز ہیں، جنہیں نگرانی اور فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔سیٹلائٹ کنکشن کی مدد سے انہیں کافی دور بیٹھے آپریٹرز بھی کنٹرول کر سکتے ہیں۔ ان ڈرونز کی خاص بات صرف حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ان میں نصب کیمرے، تھرمل سینسرز اور ریڈار دور سے ہی کسی علاقے اور وہاں موجود سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

ترکیہ کا کم لاگت والا ڈرون ماڈل

ترکیہ نے گزشتہ چند برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی الگ شناخت بنائی ہے۔ بائراکتار TB2 (Bayraktar TB2) اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔

اس کی خاص بات یہ ہے کہ اسے نسبتاً کم لاگت میں تیار کیا گیا ہے، لیکن اسے نگرانی اور حملے دونوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ترکیہ کے ڈرونز صرف فضا سے تصاویر لینے تک محدود نہیں ہیں بلکہ انہیں زمین پر موجود فوجی یونٹس کے ساتھ مربوط کرکے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ڈرون سے کسی ہدف کی معلومات ملنے کے بعد اس کا ڈیٹا متعلقہ فوجی ٹیم تک پہنچایا جا سکتا ہے، جس سے مزید کارروائی میں مدد ملتی ہے۔

چین کی ’سوارم ڈرون‘ طاقت

چین نے ڈرون ٹیکنالوجی میں تیزی سے اپنی جگہ بنائی ہے۔ اس کے پاس نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے چھوٹے یو اے وی سے لے کر ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بڑے ڈرونز تک موجود ہیں۔

چین اب سوارم ڈرون ٹیکنالوجی پر بھی خاص توجہ دے رہا ہے۔ اس میں کئی ڈرونز ایک ساتھ پرواز کرتے ہیں اور ایک ہی گروپ کی طرح کام کرتے ہیں۔ مختلف سمتوں سے آنے والے بڑی تعداد میں ڈرونز کسی بھی ایئر ڈیفنس سسٹم کے لیے بڑا چیلنج پیدا کر سکتے ہیں۔

اسرائیل کی لوئٹرنگ میونیشن صلاحیت

اسرائیل نے ڈرونز کے ساتھ ساتھ سینسر ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی نمایاں کام کیا ہے۔ اس کے ڈرونز کا استعمال طویل وقت تک کسی علاقے پر نظر رکھنے اور چھوٹے سے چھوٹے ہدف کی شناخت کے لیے کیا جاتا ہے۔

شاہد ڈرونز نے بدلی ایران کی طاقت

ایران نے شاہد سیریز کے ڈرونز کے ذریعے کم لاگت والے ہتھیاروں پر خاص توجہ دی ہے۔ ان ڈرونز کو یک طرفہ حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہیں ہدف کی سمت بھیجا جاتا ہے اور وہاں پہنچنے کے بعد یہ حملہ کر دیتے ہیں۔کم قیمت ہونے کی وجہ سے انہیں بڑی تعداد میں استعمال کرنا ممکن ہے اور یہ کافی فاصلے تک پرواز کر سکتے ہیں۔ بڑی تعداد میں ان کی تعیناتی ایئر ڈیفنس کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔ مخالف ملک کو انہیں روکنے کے لیے مہنگی انٹرسیپٹر میزائلوں اور دیگر دفاعی وسائل کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔

بھارت کا ’کال‘ ڈرون اور طویل فاصلے کی صلاحیت

ڈرون ٹیکنالوجی میں بھارت بھی مسلسل اپنی صلاحیت بڑھانے پر کام کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ’کال‘ ڈرون کو طویل فاصلے کے اسٹرائیک مشنز کے لیے تیار کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ اس کا مقصد دور موجود اہداف تک پہنچ کر کارروائی کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read