پاکستان میں سیاسی کشمکش اور فوجی اثر و رسوخ کا سلسلہ قیام ملک سے جاری ہے۔ منتخب حکومتیں معزول ہوتی رہی ہیں اور وزرائے اعظم کو جیلوں میں جانا پڑا ہے۔ اب ملک کے سابق وزیراعظم اور معروف کرکٹر عمران خان کو لے کر ایک بڑے ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ان کی موت کی افواہوں نے پورے پاکستان میں سنسنی پھیلا دی ہے اور یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر عمران خان کہاں ہیں؟
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل یا کچھ اور؟
عمران خان 9 مئی 2023 سے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید ہیں۔ ان پر بدعنوانی اور سرکاری تحائف و زمین کی غیر قانونی فروخت کے الزامات کے تحت مختلف کیسوں میں 3 سے 14 سال تک کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ لیکن گزشتہ تین ہفتوں سے نہ ان کے اہلِ خانہ اور نہ وکلاء کو ان
سے ملنے کی اجازت دی گئی ہے۔ عدالت نے واضح حکم دیا تھا کہ ہر ماہ انہیں کم از کم دو سے تین بار ملاقات کی اجازت دی جائے، مگر نومبر 2025 کے آغاز سے یہ حق معطل کردیا گیا۔
While Pakistanis are crying after news of Imran Khan murder inside Adiala Jail, Pakistan Army Chief Asim Munir has once again proved that he may lose every war on the border but no one can defeat him inside Pakistan. He is the real boss of Pakistan. pic.twitter.com/dZH5C3KQB8
— Baba Banaras™ (@RealBababanaras) November 26, 2025
افواہوں کو ہوا کیسے ملی؟
26 نومبر کو اس وقت صورتحال مزید سنگین ہو گئی جب عمران خان کی تین بہنوں کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں ملی، اور ان کے ساتھ بدسلوکی اور دھکے دینے کی شکایات سامنے آئیں۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ تیزی سے وائرل ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کو قتل کر دیا گیا ہے اور ان کی لاش کہیں منتقل کر دی گئی ہے۔ یہ خبر پھیلتے ہی حامیوں کا احتجاج شروع ہو گیا۔ جیل انتظامیہ ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کر رہی ہے کہ عمران خان محفوظ ہیں اور ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔
کیا بھٹو کی تاریخ دہرا سکتی ہے؟
یہ تشویش بھی بڑھ رہی ہے کہ کیا عمران خان وہی انجام بھگت سکتے ہیں جو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا ہوا تھا؟ بھٹو کو بھی راولپنڈی میں ہی قید رکھا گیا تھا اور 1978 میں انہیں پھانسی دی گئی تھی۔ حال ہی میں پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فوج کو مزید اختیارات دیے گئے ہیں، جبکہ عمران خان اور فوج کے درمیان 2021–2022 میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ اسی پس منظر میں خدشات بڑھ رہے ہیں کہ کہیں عمران خان بھی عسکری طاقت کا شکار نہ ہو جائیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

