نیتزارم کوریڈور سے اسرائیلی فوج پیچھے ہٹی۔
تل ابیب: اسرائیلی فوجی نیتٹزارم کوریڈور سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ سیکڑوں فلسطینیوں نے گدھوں اور دیگر سامان سے لدے ٹھیلوں میں سوار ہو کر شمالی غزہ کی طرف واپسی شروع کر دی ہے۔ اسرائیلی فوجیوں کا انخلا اسرائیل اور حماس کے درمیان گزشتہ ماہ جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔
نیتزارم کوریڈور ایک فوجی راہداری ہے جو غزہ پٹی کے شمالی حصے کو جنوبی حصے سے الگ کرتی ہے۔ غزہ جنگ بندی معاہدے کے مطابق انخلاء کی آخری تاریخ 9 فروری تھی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے غزہ پر اپنی جنگ کی شروعات میں اس کوریڈور کو بنایا تھا۔ یہ ایک بند فوجی زون ہے جو اسرائیل کی غزہ سرحد سے بحیرہ روم تک پھیلا ہوا ہے اور تقریباً 6 کلومیٹر (3.7 میل) چوڑا ہے۔ یہ کوریڈور اسرائیلی فوج کا ایک اسٹریٹجک اقدام تھا – جس اسے رسائی، کنٹرول اور نگرانی مل رہ تھی۔
حماس کے ایک عہدیدار نے اتوار کے روز صلاح الدین اسٹریٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اسرائیلی فورسز نے اپنی پوزیشنوں اور فوجی چوکیوں کو منہدم کر دیا ہے اور صلاح الدین روڈ پر نیتزارم کوریڈور سے اپنے ٹینک مکمل طور پر ہٹا لیے ہیں، جس سے گاڑیوں کو دونوں سمتوں میں آزادانہ گزرنے کی اجازت مل گئی ہے۔‘‘
کوریڈور سے اسرائیلی فوجیوں کا مکمل انخلاء حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے پانچویں تبادلے کے ایک دن بعد ہوا ہے۔ ہفتے کے روز، فلسطینی گروپ نے اسرائیلی جیلوں میں قید 183 فلسطینی قیدیوں کے بدلے تین اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا۔
حماس کے مطابق، کوریڈور سے اسرائیل کا مکمل انخلاء ’فلسطینی عوام کے خلاف تباہ کن جنگی اہداف کی ناکامی کے تسلسل‘ کا اشارہ ہے۔
نیتزارم کوریڈور ایک ایسا علاقہ ہے جو گزشتہ 15 مہینوں میں اسرائیلی فوج کے ایک بڑے اڈے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اب یہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے، یہاں کوئی عمارت باقی نہیں ہے۔ اسرائیلی فوج نے زیادہ تر زرعی اراضی کو بلڈوز کر کے تباہ کر دیا ہے۔
اس کوریڈور کا نام نیتزارم کے نام پر رکھا گیا ہے، جو غزہ میں آخری اسرائیلی بستی تھی جسے 2005 میں اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون نے غزہ سے اسرائیلی انخلاء کے منصوبے کے تحت بند کیا تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

