ویتنام کے وسطی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ بارش اور سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 35 ہو گئی ہے، جبکہ 5 افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور 60 زخمی ہیں۔ ویتنام کی آفات اور ڈائک مینجمنٹ اتھارٹی نے اتوار کو یہ معلومات فراہم کیں۔خبر رساں ایجنسی سِنہوا کے مطابق، 16 ہزار 500 سے زائد گھر اب بھی زیرِ آب ہیں جبکہ 361 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب نے 5 ہزار 300 ہیکٹیئر سے زیادہ دھان اور دیگر فصلوں کو تباہ کر دیا۔ اس کے علاوہ تقریباً 800 ہیکٹیئر رقبے پر لگے پھلوں کے درخت متاثر ہوئے، اور 42 ہزار سے زائد جانور اور مرغیاں یا تو مر گئے یا بہہ گئے۔ زیادہ تر متاثرہ علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے، لیکن تقریباً 75 ہزار گھروں میں ابھی بھی بجلی نہیں ہے۔
ایمرجنسی ریلیف فنڈ کی منظوری
ویتنامی حکومت نے وسطی ویتنام کے چار شہروں اور صوبوں کی باز آبادکاری کی کوششوں میں مدد کے لیے 450 ارب ویتنامی ڈونگ (تقریباً 17.93 ملین امریکی ڈالر) کے ایمرجنسی ریلیف فنڈ کی منظوری دی ہے۔ ان شہروں اور صوبوں میں ہُوئے، دا نانگ، کوانگ تری اور کوانگ نغائی شامل ہیں، جنہیں اس سرکاری فنڈ سے فائدہ پہنچے گا۔
سیلاب میں بہہ گئے 60 گھر
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس سے قبل اگست میں ویتنام کے شمالی صوبے ڈیئن بیئن میں اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث آٹھ افراد ہلاک اور تین لاپتہ ہوئے تھے۔ ویتنام ڈیزاسٹر اینڈ ڈائک مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، حالیہ سیلاب میں تقریباً 60 مکانات بہہ گئے یا نقصان زدہ ہوئے۔
30 دیہاتوں میں بھاری تباہی
آمدورفت میں رکاوٹ کے باعث 30 دیہات دوسرے علاقوں سے کٹ گئے۔ ان دیہاتوں میں زبردست تباہی دیکھی گئی۔ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے پولیس، فوج، مقامی اداروں اور مختلف سماجی تنظیموں کے تقریباً 700 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔قابلِ ذکر ہے کہ چند ہفتے قبل ہی ویتنام کے ہنگ یین اور نِنہ بِنه صوبوں کے ساحلی علاقوں میں طوفان ’’ویفا‘‘ آیا تھا۔ اس طوفان کے کچھ ہی ہفتوں بعد اب وہاں شدید بارش اور سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


