ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے اثرات اب عراق تک پہنچ گئے ہیں۔ امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ کارروائی میں عراق کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے گئے، جن میں تقریباً 18 سے 20 جنگجو ہلاک اور 32 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا بیان
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایران نواز گروپوں کی جانب سے کیے گئے 30 سے زائد ڈرون حملوں کے جواب میں یہ کارروائی کی گئی۔ کمانڈ نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور اس کے اتحادی حملے بند نہیں کرتے تو مزید فوجی اقدامات کیے جائیں گے۔
سعودی عرب کی وارننگ
سعودی وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب خطے میں کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتا، تاہم اگر اس پر حملہ کیا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اہم ملاقات منسوخ
بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جدہ میں عراقی وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان طے شدہ اہم ملاقات منسوخ کر دی گئی۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان علاقائی صورتحال پر بات چیت کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی تھی۔
پی ایم ایف کا دعویٰ
پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF)، جو شیعہ اور ایران نواز گروپوں کا اتحاد ہے، نے دعویٰ کیا کہ عراق کے مختلف علاقوں میں اس کے ٹھکانوں پر رات بھر حملے کیے گئے، جن میں کم از کم 20 جنگجو ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔
پی ایم ایف کی پس منظر
پی ایم ایف نے 2014 میں شدت پسند تنظیم داعش (اسلامک اسٹیٹ) کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ بعد ازاں 2016 میں عراقی حکومت نے اسے سرکاری سکیورٹی فورسز کا حصہ قرار دیا، تاہم اس کے کئی گروپ عملی طور پر آزادانہ انداز میں کام کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے بعض پر ماضی میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔
ڈرون حملوں پر اختلاف
سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ عراق سے ایران نواز ملیشیاؤں نے ڈرون حملے کیے، جنہیں سعودی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔ دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے کہا کہ انہوں نے سعودی تیل بردار جہاز کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ ادھر عراقی فوج نے واضح کیا ہے کہ عراق اپنی سرزمین کو کسی بھی حملے کے لیے لانچنگ پیڈ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔
عراقی ملیشیاؤں کی تردید
عراق میں سرگرم ایران نواز ملیشیاؤں نے ڈرون حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ اسلامک ریزسٹنس ان عراق نامی گروپ کا کہنا ہے کہ اصل کارروائیاں حوثی باغیوں نے کیں، نہ کہ عراقی گروہوں نے۔
ایران کا مؤقف
ایران کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں تیل بردار جہازوں پر حملے ہوئے ہیں۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشیدگی اب صرف عراق تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ اور تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



