امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے H-1B ویزا کو لے کر ایک بار پھر سخت قدم اٹھانے کی تیاری کر لی ہے۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے H-1B ویزا درخواستوں کے لیے 103,265 ڈالر کی اضافی فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس تجویز سے امریکہ میں ملازمت کرنے یا مستقبل میں کیریئر بنانے کا خواب دیکھنے والے ہزاروں غیر ملکی طلبہ اور پروفیشنلز کی تشویش بڑھ گئی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر بھارتی شہریوں پر پڑنے کا خدشہ ہے، کیونکہ H-1B ویزا حاصل کرنے والوں میں بڑی تعداد بھارتی پروفیشنلز کی ہوتی ہے۔ ڈی ایچ ایس نے اس تجویز کو فیڈرل رجسٹر میں شائع کیا ہے۔ اگر اسے حتمی منظوری مل جاتی ہے تو یہ فیس مستقل طور پر نافذ کی جا سکتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس عمل کو رواں سال کے اختتام تک مکمل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ نئی تجویز صرف بیرون ملک سے H-1B ویزا کے لیے درخواست دینے والوں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ زیادہ تر نئے H-1B درخواست گزاروں پر بھی لاگو ہو سکتی ہے۔
پہلے بھی ایک لاکھ ڈالر فیس کی تجویز سامنے آ چکی ہے
ڈی ایچ ایس کی نئی تجویز اس سے پہلے پیش کی گئی ایک لاکھ ڈالر کی H-1B فیس کی تجویز کے فوراً بعد سامنے آئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ستمبر 2025 میں ایک لاکھ ڈالر کی فیس کا اعلان کیا تھا، تاہم رواں سال جون میں ایک امریکی عدالت نے اس اقدام پر روک لگا دی تھی۔ اس عدالتی روک کی مدت 21 ستمبر کو ختم ہونے والی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے نئی فیس کو قانونی امیگریشن نظام کے انتظامی اخراجات کی تلافی کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ ڈی ایچ ایس کا کہنا ہے کہ اس اضافی فیس سے وفاقی حکومت کو قانونی امیگریشن نظام چلانے کے اخراجات کا کچھ حصہ پورا کرنے کے لیے اضافی آمدنی حاصل ہوگی۔
کن H-1B درخواستوں پر ہوگی نئی فیس؟
ڈی ایچ ایس کے مطابق 103,265 ڈالر کی مجوزہ فیس صرف ’کیپ سبجیکٹ‘ H-1B ویزا درخواستوں پر لاگو ہوگی۔ امریکہ ہر مالی سال میں عام H-1B ویزوں کی تعداد 65,000 تک محدود رکھتا ہے، جبکہ ایڈوانسڈ ڈگری رکھنے والوں کے لیے مزید 20,000 ویزا مختص کیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب ’کیپ ایگزیمپٹ‘ H-1B درخواستوں پر یہ اضافی فیس لاگو نہیں ہوگی۔ عام طور پر یونیورسٹیاں اور غیر منافع بخش ادارے ان کیٹیگری کے تحت H-1B ویزا استعمال کرتے ہیں۔
بھارتی طلبہ اور پروفیشنلز پر کیا ہوگا اثر؟
اگر یہ تجویز حتمی شکل اختیار کرتی ہے تو H-1B اسپانسر کرنے والی کمپنیوں کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض کمپنیاں غیر ملکی پروفیشنلز کو ملازمت دینے یا ان کے لیے H-1B اسپانسر کرنے سے گریز کر سکتی ہیں۔ اس صورتحال کا اثر خاص طور پر بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز اور ان طلبہ پر پڑ سکتا ہے جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد امریکہ میں ملازمت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ڈی ایچ ایس نے اپنی مسودہ تجویز میں موقف اختیار کیا ہے کہ کیپ سبجیکٹ H-1B درخواست گزار اضافی 103,265 ڈالر کی فیس ادا کرنے کے لیے تیار اور اسے برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حکومت کے مطابق اس فیس کا مقصد قانونی امیگریشن نظام کے انتظامی اخراجات کے ایک حصے کی تلافی کے لیے وفاقی حکومت کے لیے آمدنی کا ایک مخصوص ذریعہ پیدا کرنا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


