امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے قطر کے لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) انفراسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو امریکہ سخت اور بڑے پیمانے پر ردعمل دے سکتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ وہ صورتحال کو مزید خراب نہیں کرنا چاہتے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس نوعیت کی تباہی کی اجازت نہیں دینا چاہتے کیونکہ اس کے ایران کے مستقبل پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے، لیکن اگر قطر کی ایل این جی تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو امریکہ کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قطر انرجی نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں قطر میں ایل این جی کی اضافی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کمپنی کے مطابق حملوں کے باعث بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی، جسے بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی ٹیمیں مصروف ہیں، تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب خلیج فارس میں واقع جنوبی پارس قدرتی گیس فیلڈ، جو ایران اور قطر کا مشترکہ قدرتی گیس کا سب سے بڑا میدان ہے، پر اسرائیل نے حملہ کیا۔ ایران نے اس کارروائی کی شدید مذمت کی، جبکہ ایرانی صدر مسعود پز شکیان نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات کے نتائج بے قابو ہو سکتے ہیں اور عالمی سطح پر اثر انداز ہوں گے۔
Statement from President Trump on South Pars Gas Field: pic.twitter.com/YrjhDdGTxP
— The White House (@WhiteHouse) March 19, 2026
ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر ہونے والے حالیہ حملے میں امریکہ یا قطر کا کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے غصے میں آ کر اس گیس فیلڈ کے ایک اہم پلانٹ کو نشانہ بنایا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ حملہ محدود نوعیت کا تھا اور بڑے انفراسٹرکچر کو مکمل نقصان نہیں پہنچا۔ امریکی صدر نے مزید عندیہ دیا کہ اگر ایران قطر پر دوبارہ حملہ نہیں کرتا تو اسرائیل بھی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر مزید کارروائی سے باز رہے گا۔ ان کے مطابق، “اس نہایت اہم اور قیمتی گیس فیلڈ پر اسرائیل کی جانب سے مزید کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔” مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال قابو میں نہ آئی تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



