Bharat Express DD Free Dish

Tragic accident in Guinea’s capital:گنی کی راجدھانی میں دردناک حادثہ،کچرے کا پہاڑ کھسکنے سے30افراد ہلاک،ہلاکتوں کی تعدادمیں ہوسکتا ہے اضافہ

حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی اور بچاؤ ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش شروع کردی گئی۔ حکام کے مطابق حادثے میں کئی مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔ امدادی کارکن ملبہ ہٹا کر زندہ افراد کو تلاش کرنے اور انہیں محفوظ مقام تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

گنی کی راجدھانی کوناکری میں اتوار کی علی الصبح ایک انتہائی دردناک حادثہ پیش آیا، جہاں شہر کے سب سے بڑے کچرا ڈمپنگ مقام پر جمع کچرے کا ایک بہت بڑا ڈھیر اچانک کھسک گیا۔ کچرے کا پہاڑ منہدم ہونے کے بعد آس پاس کی کئی جھونپڑیاں ملبے اور کچرے کے نیچے دب گئیں۔ اس حادثے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ 6 افراد کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ بنگلہ دیش کی خبر رساں ایجنسی ’یو این بی‘ کے مطابق حادثہ رات تقریباً 2 بجے پیش آیا۔ اس وقت علاقے میں تیز بارش ہورہی تھی۔ بارش کے باعث کچرے کا بھاری ڈھیر غیر مستحکم ہوگیا اور اس کا ایک بڑا حصہ اچانک نیچے کی طرف کھسک گیا۔ اس کی زد میں آنے والی جھونپڑیاں اور وہاں موجود افراد کچرے اور ملبے کے نیچے دب گئے۔

ملبے میں دبے افراد کی تلاش جاری

حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی اور بچاؤ ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش شروع کردی گئی۔ حکام کے مطابق حادثے میں کئی مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔ امدادی کارکن ملبہ ہٹا کر زندہ افراد کو تلاش کرنے اور انہیں محفوظ مقام تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امدادی کارروائی آگے بڑھنے کے ساتھ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے، کیونکہ کئی افراد کے اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔ یہ حادثہ دارالسلام علاقے میں واقع کچرا تلف کرنے کے مرکز میں پیش آیا، جسے کوناکری کا سب سے بڑا کچرا ڈمپنگ مقام بتایا جاتا ہے۔ فوجی انجینئرنگ بٹالین کے صفائی افسر لیفٹیننٹ کرنل بالڈے مامادو بائیلو نے بتایا کہ اس کچرا ڈمپنگ مقام کو اتوار سے بند کرنے کا منصوبہ پہلے ہی بنایا گیا تھا۔

لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی

حکام کے مطابق کچرا ڈمپنگ مقام کے آس پاس رہنے والے لوگوں کو پہلے ہی علاقہ خالی کرنے کا نوٹس دیا جاچکا تھا۔ اس کے بعد کئی خاندان محفوظ مقامات پر منتقل بھی ہوگئے تھے، تاہم حادثے کے وقت بھی بڑی تعداد میں لوگ وہاں موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کچرے کا پہاڑ کھسکنے کے بعد کئی جھونپڑیاں اس کی زد میں آگئیں۔ علاقائی انتظامیہ اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی وزیر ڈینابو ٹورے بھی حادثے کے مقام پر پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت حادثے سے متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کرے گی۔ انتظامیہ کے سامنے اس وقت سب سے بڑا چیلنج ملبے میں پھنسے افراد کو جلد از جلد تلاش کرنا اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنا ہے۔

قدرتی وسائل سے مالا مال گنی، پھر بھی غربت کا شکار

گنی قدرتی وسائل کے اعتبار سے انتہائی مالا مال ملک ہے۔ یہاں دنیا کے بڑے باکسائٹ ذخائر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ لوہے کی دھات، سونا اور ہیرے بھی بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ملک کی ایک بڑی آبادی غربت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ کوناکری میں پیش آنے والے اس حادثے نے کچرے کے ناقص انتظام، غیر محفوظ رہائشی علاقوں اور شہری بنیادی سہولیات سے متعلق سنگین مسائل کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read