واشنگٹن: امریکہ کے محکمہ انصاف نے پاکستان میں پیدا ہونے والے ایک شخص کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے سول شکایت دائر کی ہے۔ اس شخص کو ایک کم عمر لڑکی کے جنسی استحصال اور اسے غلط کاموں پر اکسانے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ محکمہ کا الزام ہے کہ اس نے اپنے جرائم چھپا کر اور جھوٹی گواہی دے کر امریکی شہریت حاصل کی۔
ملزم کی شناخت اور پس منظر
یہ معاملہ حسن شرجیل خان سے متعلق ہے، جسے مئی 2013 میں امریکی شہریت دی گئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق، شہریت ملنے سے پہلے بھی وہ کئی برسوں سے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ اس کی شہریت غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی تھی، اس لیے اسے منسوخ کیا جانا چاہیے۔
آن لائن رابطے کے ذریعے استحصال
عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق، حسن شرجیل خان کی متاثرہ لڑکی سے ملاقات 2007 میں آن لائن ہوئی، جب وہ صرف 11 سال کی تھی۔ کئی برسوں تک اس نے انٹرنیٹ چیٹ اور ویڈیو کالز کے ذریعے لڑکی پر دباؤ ڈالا، اس سے فحش تصاویر حاصل کیں اور اسے جنسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر مجبور کیا۔
انگلینڈ میں پیش آیا واقعہ
استغاثہ کا کہنا ہے کہ اپریل 2012 میں حسن امریکہ سے انگلینڈ گیا، جہاں متاثرہ لڑکی رہتی تھی۔ وہاں اس نے اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا۔ اس وقت لڑکی کی عمر 15 سال تھی جبکہ حسن 24 سال کا تھا۔
عدالت میں جرم کا اعتراف
اس کے بعد اپنی سماعت کے دوران حسن شرجیل خان نے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اسے معلوم تھا کہ اس کا یہ عمل نہ صرف غیر قانونی بلکہ اخلاقی طور پر بھی غلط تھا۔
شہریت حاصل کرنے میں غلط بیانی
محکمہ انصاف کے مطابق، حسن کم از کم 2013 تک آن لائن ذرائع سے متاثرہ کا استحصال کرتا رہا۔ اس کے باوجود اس نے اگست 2012 میں امریکی شہریت کے لیے درخواست دی۔ اپنی درخواست اور بعد کے انٹرویو میں اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے کبھی کوئی ایسا جرم نہیں کیا جس پر اسے گرفتار کیا گیا ہو، جبکہ استغاثہ کے مطابق یہ بیان سراسر جھوٹ تھا۔
اخلاقی کردار پر سوال
شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم شہریت کے لیے درکار اخلاقی معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔ اس نے نہ صرف سنگین جرائم کیے بلکہ شہریت حاصل کرنے کے عمل میں حلف لے کر جھوٹ بھی بولا اور اہم حقائق کو جان بوجھ کر چھپایا۔ اگر وہ صحیح معلومات فراہم کرتا تو اسے شہریت کے لیے نااہل قرار دے دیا جاتا۔
گرفتاری اور سزا
متاثرہ کی شکایت کے بعد ملزم کو 2015 میں گرفتار کیا گیا۔ جنوری 2016 میں اس نے کم عمر لڑکی کو ورغلانے اور زبردستی کرنے کا جرم قبول کر لیا۔ عدالت نے اسے 17 سال قید کی سزا سنائی اور ابھی وہ جیل میں ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



