روسی آرتھوڈوکس چرچ کے ریٹائرڈ بشپ ہیلاریون الفیئیف۔
ماسکو: روسی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ماسکو میں موجود جمہوریہ چیک کے سفارتی مشن کے چیف کو طلب کیا جائے گا۔ یہ اقدام کارلووی واری میں روسی آرتھوڈوکس چرچ کے ریٹائرڈ بشپ ہیلاریون الفیئیف کی گرفتاری کے بعد اٹھایا جا رہا ہے۔
پولیس نے بشپ کو حراست میں لیا
وزارت کے مطابق جمہوریہ چیک میں مقیم روسی آرتھوڈوکس چرچ کے ریٹائرڈ بشپ ہیلاریون الفیئیف کو اتوار کے روز گرفتار کیا گیا۔ چیک پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی گاڑی کی ڈِکّی سے کچھ کنٹینرز برآمد ہوئے، جن میں نامعلوم مادہ موجود تھا۔ یہ تفصیلات روسی وزارتِ خارجہ کے بیان میں دی گئیں۔
معاملے میں روس کا سخت ردعمل
روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی ٹاس کے مطابق وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا کہ روسی سفارتخانہ ہیلاریون کو ہر ممکن مدد فراہم کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو میں چیک سفارتی مشن کے چیف کو جلد روسی وزارتِ خارجہ طلب کیا جائے گا، جہاں چیک حکام کی ’ناقابلِ قبول اور من مانی کارروائی‘ کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔
’جھوٹے الزامات‘ کے تحت گرفتاری
ہیلاریون الفیئیف کی خدمات کا مرکز کارلووی واری میں واقع ’چرچ آف دی اپوسٹلز پیٹر اینڈ پال‘ بتایا گیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے الزام عائد کیا کہ بشپ کو جمہوریہ چیک میں ’جھوٹے الزامات‘ کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ بیان کے مطابق پولیس اسٹیشن میں ہیلاریون اور ان کے ڈرائیور کی ذاتی تلاشی لی گئی اور دونوں کا ڈرگ ٹیسٹ بھی کیا گیا، جس کی رپورٹ منفی آئی۔
روس نے کارروائی کو سازش بتایا
روسی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کو ایک منظم اور سوچی سمجھی اشتعال انگیز کارروائی قرار دیا ہے۔ وزارت کے مطابق اس اقدام کا مقصد صرف میٹروپولیٹن ہیلاریون کو بدنام کرنا نہیں بلکہ ان کے ذریعے پورے آرتھوڈوکس مذہب کو نشانہ بنانا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ عرصے میں جمہوریہ چیک میں آرتھوڈوکسی کے خلاف مسلسل حملے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
روس نے لہا فوری رہائی کا مطالبہ
روس نے ہیلاریون الفیئیف کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس ’من گھڑت تحقیقات‘ کو بند کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔ دوسری جانب ہیلاریون نے غیر قانونی مادہ رکھنے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اپنی گرفتاری کو سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ کئی ماہ سے انہیں گمنام دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں، جن میں جسمانی تشدد کی دھمکیاں بھی شامل تھیں، اور ان سے اپنی خدمات کی جگہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
قانونی تعاون جاری رکھنے کا اعلان
ہیلاریون نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر جاری بیان میں کہا کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تحقیقات میں مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے نام، عزت اور ساکھ کے دفاع کے لیے تمام قانونی راستے اختیار کریں گے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




