دوحہ: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کے باعث مغربی ایشیا میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ 140 مقامات کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر قطر نے تمام جہاز مالکان سے اپیل کی ہے کہ اگلے حکم تک عارضی طور پر جہاز رانی اور تمام سمندری سرگرمیاں معطل کر دیں۔
قطر کی احتیاطی ہدایات
قطر کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ عوامی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اس پابندی میں تفریحی کشتیاں، ماہی گیری کے جہاز، جیٹ اسکی اور دیگر تمام سمندری سرگرمیاں شامل ہیں۔
ایرانی حملوں کی شدید مذمت
قطر نے ایرانی حملوں کو علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی قانون کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ قطر کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا، ’’ان جارحانہ کارروائیوں کا تسلسل ایک نہایت خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے، جو کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنائے گا اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے جاری سیاسی اور سفارتی کوششوں کو کمزور کرے گا۔‘‘
وزارت نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ان حملوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تمام نتائج کی مکمل قانونی ذمہ داری قبول کرے گا۔ دوحہ نے ان حملوں کو ’خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی‘ اور ’بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
فوجی کارروائیاں روکنے کی اپیل
قطر کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ملک کو جوابی کارروائی کا حق حاصل ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی اس نے خطے میں تمام فوجی جارحانہ کارروائیوں کے مکمل خاتمے پر زور دیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں خطرہ بدستور برقرار
برطانیہ کی بحری تجارتی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سمندری سلامتی کو لاحق خطرات انتہائی بلند سطح پر ہیں اور انہیں ’سنگین‘ درجے میں رکھا گیا ہے۔
ادارے کے مطابق، ’’12 جولائی 2026 کو ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے اعلان کے باوجود جنوبی بحری راستہ بدستور کھلا ہے اور اسے اب دو طرفہ بحری آمد و رفت کے لیے مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
