تل ابیب: غزہ پر اسرائیلی بمباری کے خلاف اب احتجاج کی آوازیں اسرائیل کے اندر سے بھی اٹھنے لگی ہیں۔ ہفتہ، 12 جولائی کو اسرائیل کے شہر تل ابیب میں سینکڑوں افراد سڑکوں پر اترے اور غزہ میں مارے گئے بچوں کو خاموش خراج عقیدت پیش کیا۔
مظاہرین کے ہاتھوں میں تھیں موم بتیاں اور بچوں کی تصویریں
تل ابیب میں مظاہرین نے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تصاویر اور موم بتیاں اٹھا رکھی تھیں۔ یہ مظاہرہ نہ صرف انسانی ہمدردی کا پیغام تھا بلکہ ایک جامع جنگ بندی کا مطالبہ بھی۔
بس کیجیے یہ نسل کشی — کنیسٹ رکن اوفر کاسف
اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے رکن اوفر کاسف نے مظاہرے کے دوران کہا کہ مجھے دکھ اور شرم ہے کہ ہمارا ملک گزشتہ دو سال سے کیا کر رہا ہے… غزہ میں نسل کشی، ہزاروں بے گناہوں کا قتل اور تقریباً 20 ہزار بچوں کی جانیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی کنارے میں بھی نسلی تطہیر جاری ہے اور اسرائیل میں فاشزم کھلے عام پنپ رہا ہے۔
Silent protest against the war on Kaplan street in Tel Aviv, commemorating children killed in Gaza. pic.twitter.com/MHPOk0jaFl
— Yanal Jabarin ينال جبارين | ינאל ג׳בארין (@JbareenYanal) July 12, 2025
اسرائیلیوں کی اپنی حکومت سے ناراضگی بڑھ رہی ہے
مظاہرین نے نہ صرف غزہ میں جاری جنگ کو بند کرنے کا مطالبہ کیا بلکہ حماس کی قید میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بھی آواز بلند کی۔ یہ مظاہرہ اسرائیل کے اندر سے جنگ مخالف جذبات کے بڑھتے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
ایک دن میں 110 فلسطینی جاں بحق
ادھر غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری بدستور جاری ہے۔ ہفتہ کے روز پورے غزہ پٹی میں کم از کم 110 فلسطینی مارے گئے، جن میں رفح میں کھانے کی لائن میں کھڑے 34 عام شہری بھی شامل تھے۔ یہ شہری امریکی حمایت یافتہ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کے مرکز پر جمع تھے۔
اب تک 60 ہزار سے زائد ہلاکتیں
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی تمام کوششوں کے باوجود، اسرائیل کا حملہ مسلسل جاری ہے۔ اب تک غزہ میں 60 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بیشتر خواتین اور بچے ہیں۔ یہ مظاہرہ اس بات کا اشارہ ہے کہ انسانی ضمیر صرف سرحدوں تک محدود نہیں، اور جنگ میں مارے گئے بے گناہ بچوں کی چیخیں اب اسرائیل کی گلیوں میں بھی گونجنے لگی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



