Bharat Express DD Free Dish

Jerusalem Post On PM Modi Israel Visit: اسرائیلی اخبار ’دی یروشلم پوسٹ‘ نے وزیر اعظم مودی کو کہا نمستے، جانئے ’دی مودی ڈاکٹرائن‘ میں ایڈیٹر زویکا کلین نے کیا لکھا؟

وزیر اعظم نریندر مودی 25 اور 26 فروری کو اسرائیل کے تاریخی دورے پر ہیں۔ اسرائیلی اخبار ’دی یروشلم پوسٹ‘ نے انہیں اپنے فرنٹ پیج پر جگہ دی ہے۔ آج وزیر اعظم مودی اسرائیلی پارلیمنٹ ’کنیسٹ‘ سے خطاب کریں گے، اس سے قبل جانیے ’دی مودی ڈاکٹرائن‘ میں ایڈیٹر زویکا کلین نے کیا لکھا ہے؟

وزیر اعظم نریندر مودی آج سے اپنے دو روزہ تاریخی اسرائیل دورے کا آغاز کر رہے ہیں۔ اس دورے کو لے کر اسرائیل میں کس قدر جوش و خروش پایا جا رہا ہے، اس کی عکاسی وہاں کے معروف اخبار ’دی یروشلم پوسٹ‘ کے فرنٹ پیج سے ہوتی ہے۔ اخبار نے اپنے مرکزی صفحے پر وزیر اعظم مودی کی ہاتھ ہلاتے ہوئے بڑی تصویر شائع کرتے ہوئے سرخی دی ہے ’’دو قدیم ممالک نے ایک نئے باب کا آغاز کیا‘‘۔ یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ عالمی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں بھی ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم مودی رقم کریں گے تاریخ
اس دورے کا سب سے اہم مرحلہ اسرائیلی پارلیمنٹ ’کنیسٹ‘ میں وزیر اعظم نریندر مودی کا خطاب ہوگا۔ اسرائیل میں بھارت کے سفیر جے پی سنگھ نے ’دی یروشلم پوسٹ‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اسے تاریخی قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی ’کنیسٹ‘ سے خطاب کرنے والے بھارت کے پہلے وزیر اعظم ہوں گے۔ بھارتی سفیر کے مطابق یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کے ’نئے مرحلے‘ کا آغاز ہے، جس کا مقصد تعاون کو چند شعبوں تک محدود رکھنے کے بجائے ایک وسیع اور جامع فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ اس میں ڈیجیٹل ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے اور سرحد پار ادائیگیوں جیسے مالیاتی تعاون پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

’دی مودی ڈاکٹرائن‘ میں بھرپور ستائش
اخبار میں ’دی مودی ڈاکٹرائن‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے ایک تجزیاتی مضمون میں امیچائی اسٹرن نے سال 2017 کے اس دورے کو یاد کیا، جس نے دہائیوں پر محیط سفارتی ہچکچاہٹ کا خاتمہ کر دیا تھا۔ سابق سفیر الون اوشپیز کے حوالے سے کہا گیا کہ نئی دہلی کے رویے میں اب واضح تبدیلی آ چکی ہے اور وزیر اعظم مودی اسرائیل کی طاقت کی کھل کر تعریف کرتے ہیں۔ سنہ 1947 میں اقوام متحدہ میں اسرائیل کے قیام کے خلاف ووٹنگ سے لے کر 1992 میں مکمل سفارتی تعلقات کے قیام اور آج ایک ’طاقتور شراکت داری‘ تک کا سفر بھارت کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔

نتن یاہو نے اسے استحکام اور ترقی کا محور قرار دیا
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا ’’قریبی دوست‘‘ قرار دیتے ہوئے اس دورے کو تاریخی اہمیت کا حامل بتایا ہے۔ کابینہ اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ دو عالمی لیڈروں کے درمیان ایک مضبوط شراکت داری کی علامت ہے۔ اسرائیل اور بھارت اختراع، سلامتی اور مشترکہ اسٹریٹجک وژن کے میدان میں اہم شراکت دار ہیں۔ ہم مل کر استحکام اور ترقی کے لیے پُرعزم ممالک کا ایک مضبوط محور (Axis) تشکیل دے رہے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر نے وزیر اعظم مودی کو بتایا سچا دوست
وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے سے قبل یائر لیپڈ نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا،
“پورا اسرائیل کل وزیرِ اعظم مودی کے استقبال کے لیے پُرجوش ہے۔ وہ اسرائیل کے سچے دوست ہیں۔ اسرائیل اور بھارت کے درمیان تعلقات صرف ایک اسٹریٹجک شراکت داری تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی کے مضبوط بندھن پر قائم ہیں”۔

دورے کا ایجنڈا کیا ہے؟
دو روزہ اس دورے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کریں گے اور وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات میں حصہ لیں گے۔ دفاع و سلامتی، سائنس و ٹیکنالوجی، اختراع، زراعت اور آبی انتظام جیسے اہم شعبوں میں آئندہ تعاون کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ وزیر اعظم مودی اسرائیل کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور اختراعات پر مبنی خصوصی نمائش کا بھی دورہ کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ ’یاد واشیم‘ (ہولوکاسٹ میموریل) جا کر یہودی نسل کشی کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔

رسمیات سے آگے ایک عملی دوستی
ماہرین کے مطابق یہ دورہ محض معاہدوں تک محدود نہیں ہے۔ ’دی یروشلم پوسٹ‘ کے ایڈیٹر زویکا کلین کے مطابق یہ سفر بھارت کو اسرائیل کی ’اعلیٰ اسٹریٹجک ترجیح‘ کے طور پر قائم کرتا ہے۔ جیسے ہی وزیر اعظم مودی یروشلم کی سرزمین پر قدم رکھیں گے، یہ نہ صرف پرانی دوستی کا جشن ہوگا بلکہ مستقبل کے مشترکہ چیلنجز — جیسے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور علاقائی سلامتی — کے مقابلے کے لیے ایک مضبوط اشتراک کی نئی شروعات بھی ثابت ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read