بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے پاکستان پرسب سے بڑا ہائی جیک حملہ کیا ہے۔ ٹرین میں سوار پاکستان فوج کے 140 جوانوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ اب تک بلوچ باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے 30 فوجیوں کو مارا گیا ہے۔ اس درمیان پاکستانی فوج نے بڑی کارروائی کی ہے اور 104 یرغمالیوں کو چھڑا لیا ہے اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ بی ایل اے اور فوج کے درمیان گولی باری جاری ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، سیکورٹی اہلکاروں نے بی ایل اے کی طرف سے یرغمال بنائے گئے 104 لوگوں کوبچا لیا ہے۔ بچائے گئے لوگوں میں 58 مرد، 31 خواتین اور15 بچے شامل ہیں۔ ساتھ ہی سیکورٹی اہلکارباقی مسافروں کوبحفاظت بچانے کے لئے سیکورٹی اہلکارمسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ فوج کی کارروائی میں اب تک بی ایل اے کے 23 جنگجومارے جا چکے ہیں جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، سیکورٹی اہلکاروں کی کارروائی کے سبب مبینہ دہشت گرد چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ وہیں، زخمی مسافروں کو قریب کے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جبکہ اضافی سیکورٹی اہلکاروں کو علاقے میں بھیجا گیا ہے، جسے محاذ پرلگایا گیا ہے۔
ٹرین میں کون کون کررہا تھا سفر
دراصل، گزشتہ روزپاکستان کے کوئٹہ سے جعفرایکسپریس پشاورکے لئے روانہ ہوئی اوربولن پہنچتے ہی بی ایل اے کے جنگجوؤں نے ٹرین پرحملہ کر دیا۔ بولن کے پاس ٹرین کوجنگجوؤں نے ہائی جیک کرلیا۔ ٹرین میں 450 سے زیادہ مسافرسوارتھے۔ اس میں پاکستان فوج کے 140 جوانوں کویرغمال بنالیا گیا۔ پاکستان نے ایئراسٹرائیک کرنے کی تیاری کی، لیکن بلوچ جنگجوؤں نے دھمکی دی تھی کہ اگرہوائی حملہ ہوا تو سبھی 140 فوجیوں کوماردیا جائے گا۔ یہ حملہ پاکستانی فوج پربلوچ علیحدگی پسندوں کے اب تک کے سب سے حملوں میں سے ایک ہے۔
ریلوے ٹریک اڑا کرجعفرایکسپریس ٹرین کوروکا گیا۔ اس کے بعد ٹرین کوسرنگ میں لے جایا گیا۔ ٹرین میں پاکستانی فوج، پولیس، دہشت گردی مخالف اہلکار (اے ٹی ایف) اورانٹرسروسیزانٹلی جنس (آئی ایس آئی) کے ایکٹیو-ڈیوٹی ملازم سوارتھے۔ یہ سبھی چھٹی پرپنجاب جا رہے تھے۔ بلوچ جنگجوؤں نے انہیں ہدف بنا کرحملہ کیا۔ بی ایل اے کی فدائین یونٹ، مجید بریگیڈ نے اس آپریشن کوانجام دیا ہے۔ بلوچ جنگجوالگ بلوچستان ملک کی جنگ برسوں سے لڑ رہے ہیں اوراس حملے کے لئے پہلے سے منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

