Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بات کرتے ہوئے پی ایم مودی نے حماس کے حملے کو دہشت گردانہ واقعہ قرار دیا اور کہا کہ ہم یکجہتی کے ساتھ آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

محصور انکلیو میں وزارت داخلہ کی جانب سے جانکاری دیتے کہا گیا ہے کہ جنوبی غزہ کے رفح میں اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 18 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

باشی نے کہا کہ "حقیقت یہ ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے، اسرائیلی حکام کی طرف سے فلسطینی شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کا جواز نہیں بنتا اور ہم ابھی یہی دیکھ رہے ہیں۔

فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں تقریباً 436 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ رات بھر کے حملوں میں کم از کم 60 اور آج صبح 10 افراد مارے گئے۔

Imran Khan And Shah Mahmood Qureshi indicted in Cipher Case: جیل میں بند پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو پیربڑا جھٹکا لگا ہے۔ انہیں ایک عدالت نے سائیفرکیس میں مجرم ٹھہرایا ہے۔

چییرمین پی ٹی آئی نے فرد جرم صحت سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ جھوٹا، من گھڑت اور سیاسی انتقام پر مبنی کیس ہے، اس میں بے گناہی ثابت کروں گا۔ سابق وزیر خارجہ اور پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے بھی نے بھی فرد جرم صحت سے انکار کر دیا۔ عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے 27 اکتوبر کو سرکاری گواہان کو طلب کرلیا۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں رات بھر اسرائیلی چھاپہ مار کارروائیاں صبح تک جاری رہیں، جس میں کم از کم 120 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

رغد صدام حسین اردن میں مقیم ہیں جہاں ان کی بہن بھی ان کے ساتھ رہتی ہیں۔صدام حسین کی بیٹی نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ اس کے والد کے سخت گیری کے دور میں 1979 سے 2003 تک حالات اچھے تھے۔ان کے بقول بہت سے لوگ مجھے بتاتے ہیں کہ ہمارا دور عروج اور فخر کا دور تھا، بلا شبہ ملک امیر اور مستحکم تھا۔

امریکہ نے مبینہ طور پر اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ غزہ پر زمینی حملہ موخر کرے۔امریکی حکومت نے اسرائیل پر زور دیاہے کہ وہ غزہ پر اپنے زمینی حملے کو موخر کرے تاکہ حماس کے زیر قبضہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کے لیے وقت مل سکے۔ سی این این، نیو یارک ٹائمز اور بلومبرگ نے یہ  خبر دی ہے۔

نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، بنیادی طور پر اضافی امریکی فوجی وسائل کو خطے تک پہنچنے کی اجازت دینے اور اسیروں کی رہائی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اسرائیلی حکومت پر کسی بھی ممکنہ زمینی جنگ میں تاخیر کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔