Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ترکیہ کی پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مبینہ اسرائیلی جارحیت کو حمایت دینے والی کمپنیوں کے پروڈکٹ کا بائیکاٹ کریں گے۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر نعمان قرطلمس نے کہا کہ ان کمپنیوں کے سامان پھینک دیں گے۔

فلسطینی اتھارتی کے صدر محمود عباس کوغزہ پر اسرائیلی بمباری کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا گیا تھا۔ یہ مدت ختم ہونے کے بعد فلسطینی صدر کے قافلے پرحملہ کیا گیا۔

نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق انڈونیشیا کے وقت کے مطابق صبح 10.23 بجے ملک کے بحیرہ بندہ میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ سمندر میں آنے والے اس زلزلے نے سوملاکی شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔

بچہ مزید کہتا ہے کہ، "وہ دنیا سے جھوٹ بول رہے ہیں، کہتے ہیں کہ وہ مزاحمتی جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہے ہیں، لیکن بچوں کے طور پر، ہم ایک سے زیادہ بار موت سے بچ چکے ہیں۔ بچوں کے طور پر ہم، ایک سے زیادہ بار موت سے بچ چکے ہیں۔"

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ حماس کی طرف سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی سے قبل غزہ میں کوئی جنگ بندی یا ایندھن کی ترسیل نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم حملے جاری رکھیں گے۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ جنگ میں فریقین اور عالمی برادری دونوں کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یوین آرڈبلیواے) کے 89 عملے کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔  "

ترک پارلیمنٹ نے بروز منگل کوکا کولا اور نیسلے مصنوعات کو پارلیمانی ریستورانوں سے غزہ میں تنازع کے دوران اسرائیل کی مبینہ حمایت پر ہٹا دیا ہے۔اس اقدام کی تصدیق ترک پارلیمنٹ کے ایک بیان سے ہوئی۔دونوں کمپنیوں نے فوری طور پر روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر رئیسی اور بھارتی وزیر اعظم مودی نے غزہ کی صورتحال پر فون پر بات چیت کی۔

قابل ذکر ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان علاقائی تسلط کو لے کر طویل عرصے سے تنازع چل رہا ہے۔ ایسے میں گزشتہ 11 سالوں میں ایران کے کسی صدر نے سعودی عرب کا دورہ نہیں کیا۔

غزہ کی وزارت صحت نے کہا کہ اب تک کم از کم 10,022 فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں 4,104 بچے بھی شامل ہیں۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ اسپتال زخمیوں کا علاج نہیں کرسکتے ہیں۔ کھانے اور پینے کے لئے صاف پانی ختم ہو رہا ہے اور مالی امداد بھی مناسب نہیں ہے۔