Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

طالبان کے نئے قوانین کے مطابق محرم کی تقریبات صرف مساجد یا سرکاری اہلکاروں اور شیعہ علماء کی طرف سے مقرر کردہ مقامات پر منعقد کی جائیں گی۔

بائیڈن نے اپنے خطاب میں کہا کہ کملا ہیرس نہ صرف بہترین نائب صدر ہیں بلکہ وہ امریکہ کی بہترین صدر بھی ہو سکتی ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اگر جو بائیڈن صدارتی دوڑ سے دستبردار ہو جاتے ہیں تو کملا ہیرس سب سے مضبوط دعویدار ہیں۔

نائب صدر عہدہ کے امیدوار جے ڈی وینس کا ایک بیان سرخیوں میں بنا ہوا ہے۔ وینس نے کہا کہ برطانیہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے والا پہلا اسلامی ملک بن جائے گا۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ لیبرپارٹی کو مسلمانوں کو اچھی حمایت ملتی ہے۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اور ملک ایک ساتھ نہیں چل سکتے، تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی پر پابندی لگائی جائے گی۔اسحٰق ڈار نے کہا کہ حکومت عمران خان کی طرح صبح و شام ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی نیب یا چیئرمین نیب کو نہیں بلاتی، کابینہ اپنا کام کررہی ہے۔

برطانیہ ے قانون کے مطابق، لارڈ چانسلر سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے انصاف ہوتا ہے اور یہ عہدہ ایک وزیر کے برابر ہوتا ہے جو انگلینڈ اور ویلز میں عدالتوں اور قانونی معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔تقریب کے دوارن پہلی خاتون چیف جسٹس ڈیم سو کار نے متعدد تاریخی باتوں کی نشاندہی کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق: ’15 جولائی 2024 کی صبح 10 دہشت گردوں کے ایک گروپ نے بنوں چھاؤنی پر حملہ کیا، تاہم چھاؤنی میں داخل ہونے کی کوشش کو سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے مؤثر طریقے سے ناکام بنا دیا۔

کم جونگ کی جانب سے بھاری قیمت چکانے کی دھمکی کے بعد جنوبی کوریا نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے۔ جنوبی کوریا نے کہا کہ اگر شمالی کوریا نے جوہری ہتھیار استعمال کیے تو وہ اسے تباہ کر دے گا۔

عمان جزیرہ نما عرب کے مشرقی کنارے پر واقع ہے۔ سلطنت عمان میں اس قسم کا تشدد کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔

نیویارک ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق 39 سالہ وینس نے 2016 میں ہلبیلی ایلیجی کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جس کے بعد وہ کافی چرچہ میں آگئے۔ نائب صدارتی امیدوار جے ڈی وینس کا بھی ہندوستان سے خاص تعلق ہے۔

پاکستان کی موجودہ حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی پارٹی یعنی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے  سپریم کورٹ میں ’کیس دائر کیا جائے گا۔حکومت کے بیانیے میں  کہا گیا ہےکہ آئین حکومت کو ’ملک مخالف سرگرمیوں‘ میں ملوث جماعت پر پابندی لگانے کا اختیار دیتا ہے۔