نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے منگل9 ستمبر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ آرمی چیف جنرل اشوک راج سگڈیل نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ اگر ملک میں حالات کو بہتر بنانا ہے تو انہیں اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ نیپال میں سوشل میڈیا ایپس پر پابندی کے خلاف Gen-Z نوجوانوں کی جانب سے شدید مظاہرے ہو رہے تھے، جنہوں نے صدر کی رہائش گاہ کو آگ لگا دی تھی۔
صدر نے استعفیٰ منظور کر لیا
ملک میں خراب حالات کے پیشِ نظرصدر رام چندر پوڈیل نے وزیر اعظم اولی کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ اس وقت اولی نیپالی فوج کی سکیورٹی میں ہیں۔
اولی نے استعفیٰ میں کیا لکھا؟
اپنے استعفیٰ نامے میں اولی نے لکھا:’’محترم صدر صاحب، نیپال کے آئین کی دفعہ 76(2) کے تحت، 31 اسد 2081 بی ایس کو وزیر اعظم مقرر ہونے کے بعداور موجودہ غیر معمولی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں آئین کی دفعہ 77(1)(اے) کے تحت آج سے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دیتا ہوں، تاکہ آئینی طریقے سے مسائل کا سیاسی حل نکالا جا سکے اور آگے قدم بڑھایا جا سکے۔‘‘
Nepal Prime Minister KP Sharma Oli resigns: officials
(Source: Third Party)#NepalGenZProtest #KathmanduProtest pic.twitter.com/emqq1CMQVk
— Press Trust of India (@PTI_News) September 9, 2025
صدر رام چندر پاؤڈیل نے استعفیٰ منظور کر لیا
ملک میں خراب ہوتے حالات کے پیش نظر، نیپال کے صدر رام چندر پاؤڈیل نے وزیراعظم اولی کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ موجودہ وقت میں اولی سیکورٹی وجوہات کی بنا پر نیپالی فوج کی حفاظت میں ہیں۔
اولی تین بار نیپال کے وزیراعظم رہ چکے ہیں
کے پی شرما اولی پہلی بار 2015 میں وزیراعظم بنے تھے۔ وہ اکتوبر 2015 سے اگست 2016 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ بعد ازاں اکثریت کھو دینے پر استعفیٰ دینا پڑا۔
دوسری بار وہ فروری 2018 سے مئی 2021 تک وزیراعظم رہے، اس بار بھی استعفیٰ دینا پڑا۔
تیسری بار وہ جولائی 2024 سے اگست 2025 تک وزیراعظم رہے، جب موجودہ حالات کے پیش نظر ایک بار پھر مستعفی ہو گئے۔
آرمی چیف نے اولی کو کیا مشورہ دیا تھا؟
نیپالی میڈیا کے مطابق، نیپال کے آرمی چیف جنرل اشوک راج سگڈیَل نے پہلے ہی وزیراعظم کو استعفیٰ دینے کی مشورہ دے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا:’’آپ اقتدار چھوڑ دیں، تبھی ملک کے حالات سنبھل سکیں گے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
