Bharat Express DD Free Dish

Turkey Plane Crash: ترکی میں خوفناک طیارہ حادثہ، لیبیا کے فوجی سربراہ سمیت 7 افراد ہلاک

ترکی میں منگل کی شام ایک بڑا اور افسوسناک طیارہ حادثہ پیش آیا جس میں لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے۔ حادثے کے بعد انقرہ ہوائی اڈے کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ ترک اور لیبیائی حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ترکی میں منگل کی شام ایک بڑا اور افسوسناک طیارہ حادثہ پیش آیا جس میں لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد سمیت 7 افراد ہلاک ہوگئے۔ حادثے کے بعد انقرہ ہوائی اڈے کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا جبکہ کئی پروازوں کو متبادل ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا۔ ترک اور لیبیائی حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

لیبیا کے وزیر اعظم عبدالحمید دبیبہ نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ ملک کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب لیبیائی وفد ترکی کے سرکاری دورے کے بعد انقرہ سے اپنے وطن واپس جا رہا تھا۔ اس وفد میں اعلیٰ فوجی افسران اور حکومتی مشیران شامل تھے۔

ترکی کے وزیر داخلہ نے بتایا کہ طیارے نے رات تقریباً 8 بج کر 30 منٹ پر انقرہ ہوائی اڈے سے پرواز بھری تھی۔ پرواز کے تقریباً 40 منٹ بعد کنٹرول ٹاور سے اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ بعد ازاں طیارے کا ملبہ انقرہ کے قریب سے برآمد ہوا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق خراب موسم حادثے کی ایک بڑی وجہ ہو سکتا ہے۔ طیارے نے ایمرجنسی لینڈنگ کا سگنل بھی بھیجا تھا تاہم چند ہی لمحوں بعد مکمل رابطہ ختم ہو گیا۔ اس المناک حادثے میں لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد کے علاوہ 7 اور لوگ شامل ہیں۔ تمام ہلاک شدگان کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کی لاش ضروری کارروائی کے بعد لیبیا منتقل کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ جنرل محمد علی احمد الحداد مغربی لیبیا کے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر تھے اور اقوام متحدہ کی سرپرستی میں لیبیائی فوج کو متحد کرنے کی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔ وہ ترکی کے وزیر دفاع یاشار گلر اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کے بعد وطن واپس جا رہے تھے۔ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ ڈسالٹ فالکن 50 تھا جو مالٹا میں رجسٹرڈ اور ہارمنی جیٹس کے زیرِ انتظام تھا۔ یہ ایک جدید سہولیات سے آراستہ بزنس جیٹ تھا جس میں دس مسافروں کی گنجائش موجود تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے تفتیش جاری ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read