Bharat Express DD Free Dish

KP Chief Minister Afridi to Hold Rally in Lahore: خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ آفریدی لاہور میں کریں گے ریلی، شریف حکومت کو کیا کھلا چیلنج، سیاسی کشیدگی میں اضافہ

آفریدی پارٹی کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ سے بھی ملاقات کریں گے اور پی ٹی آئی کارکن علی بلال المعروف ظلِ شاہ کے گھر بھی جائیں گے، جن کی 2023 کے احتجاج کے دوران موت ہو گئی تھی۔ پارٹی عہدیداروں کو امید ہے کہ اتوار کے روز مینارِ پاکستان پر ہونے والی ریلی میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کریں گے۔

لاہور، 28 دسمبر (آئی اے این ایس)۔ خیبر پختونخوا (کے پی) کے نوجوان وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی پاکستانی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ ان دنوں لاہور میں موجود ہیں اور اتوار کو مینارِ پاکستان پر ایک بڑی عوامی ریلی کی قیادت کریں گے۔ مقامی میڈیا کے مطابق، پنجاب کے دارالحکومت لاہور کا انتخاب ملک کی سیاست میں بڑی تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

کے پی سے باہر نکل کر لاہور میں بھی وہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی مضبوط عوامی حمایت کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفین کو للکارنا چاہتے ہیں۔ ان کا لاہور کا دورہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے مسلسل اثر و رسوخ کا ایک ہائی پروفائل مظاہرہ ہے۔ پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر آفریدی پہلے ہی حکمران اتحاد کے نشانے پر ہیں۔

لاہور اور مینارِ پاکستان کا ہی انتخاب کیوں؟

یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر لاہور اور مینارِ پاکستان کا ہی انتخاب کیوں کیا گیا؟ اس کا جواب سمپل ہے—یہ شاندار یادگار اس مقام کی علامت ہے جہاں سیاسی جدوجہد کامیاب ہوتی ہے اور انقلابی نظریات جنم لیتے ہیں۔ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) جیسی جماعتیں عوامی حمایت دکھانے کے لیے یہاں بڑی ریلیاں منعقد کر چکی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں 1940 میں محمد علی جناح نے قراردادِ لاہور پیش کی تھی، جس نے تقسیمِ ہند کی بنیاد پڑی۔

لاہور میں طاقت دکھانے کا وقت نہایت اہم

لاہور میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کا وقت بھی نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حکمران اتحاد یہ دعویٰ کرنے لگا ہے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حمایت کمزور ہو رہی ہے۔ اب تک  آفریدی کے دورے کے دوران پولیس کی جانب سے سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ جمعہ کی رات وہ لبرٹی راؤنڈاباؤٹ پہنچے، مگر پولیس نے راستے بند کر دیے اور ناکے لگا دیے، جس کے باعث مجمع منتشر ہو گیا اور وہ طے شدہ خطاب نہ کر سکے۔

مخالف سیاسی جماعتوں کو سیدھا چیلنج

لاہور کے تین روزہ دورے کے دوسرے دن اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے  آفریدی نے اعلان کیا کہ ریلی شام 6 بجے شروع ہوگی، اور اسے پنجاب میں پی ٹی آئی کی عوامی متحرک طاقت کا مظاہرہ قرار دیا۔ انہوں نے مخالف سیاسی جماعتوں کو براہِ راست چیلنج کرتے ہوئے انہیں خیبر پختونخوا میں بھی اسی طرح کا پروگرام منعقد کرنے کی دعوت دی اور ضرورت پڑنے پر لاجسٹک مدد کی پیشکش بھی کی۔

ضرورت پڑنے پر ٹرانسپورٹ کا ہوگا انتظام

 آفریدی نے کہا، ’’وہ کوئی بھی جگہ منتخب کر سکتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کون زیادہ لوگوں کو اکٹھا کرتا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو میں ٹرانسپورٹ کا انتظام بھی کروں گا۔‘‘ وزیر اعلیٰ  آفریدی نے ان پی ٹی آئی لیڈران کے اہلِ خانہ سے بھی ملاقات کی جو اس وقت جیل میں ہیں، کیونکہ انہیں کوٹ لکھپت جیل میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، پنجاب کی سابق وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چودھری اور میاں محمود الرشید کے رشتہ داروں سے ملاقات کی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے جاری ویژولز میں  آفریدی کو قریشی کے بچوں کے ساتھ ان کے گھر پر گفتگو کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

پی ٹی آئی کارکنوں کے حوصلے کی تعریف

انہوں نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے قید لیڈران سے ملاقات کے لیے ان کی باضابطہ درخواستوں کو نظرانداز کیا گیا، اور ان کی گرفتاری کو ’غلط‘ قرار دیا۔ انہوں نے جیل میں بند پی ٹی آئی کارکنوں کے حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے انہیں پارٹی کے لیے تحریک کا ذریعہ بتایا۔

پنجاب حکومت پر سیاسی عدم برداشت کا الزام

ہم نیوز کے مطابق، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے  آفریدی نے پنجاب حکومت پر ’سیاسی عدم برداشت‘ کا الزام لگایا اور اپنے دورے کے دوران نقل و حرکت پر پابندیوں اور قانونی سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت کی شکایت کی۔ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) میں وکلا برادری سے بھی خطاب کیا اور مفلوج عدالتی نظام اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا۔

وفاقی حکومت کے ساتھ ممکنہ مذاکرات سے متعلق سوال پر  آفریدی نے کہا کہ بات چیت یا احتجاج کی ذمہ داری اپوزیشن اتحاد تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کو سونپ دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کی حمایت کرتی ہے، حالانکہ، سڑکوں پر دھرنا دینے کی تیاریاں پورے پیمانے پر جاری رہیں گی۔

حکومت مخالف نعرے لگانے پر مقدمہ درج

اس دوران، زمینی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پولیس نے  آفریدی کے دورے کے دوران غالب مارکیٹ کے علاقے میں سڑک بند کرنے اور حکومت مخالف نعرے لگانے پر پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے حامیوں کو گرفتار بھی کیا جا رہا ہے۔

ریلی میں بڑی تعداد میں لوگ کریں شرکت

آفریدی پارٹی کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ سے بھی ملاقات کریں گے اور پی ٹی آئی کارکن علی بلال المعروف ظلِ شاہ کے گھر بھی جائیں گے، جن کی 2023 کے احتجاج کے دوران موت ہو گئی تھی۔ پارٹی عہدیداروں کو امید ہے کہ اتوار کے روز مینارِ پاکستان پر ہونے والی ریلی میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کریں گے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read