Bharat Express DD Free Dish

Red Alert siren at the UN: اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں اسرائیلی سفیر کی بے بسی، سائرن بجا کر اسرائیلی شہریوں کے خوف کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے اچانک سائرن بجا کر اور 15 سیکنڈ کا ٹائمر چلا کر ارکان کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ میزائل حملوں کے دوران شہری کس ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ یواین میں اس طرح کی بے بسی کو دکھانا اور دنیا سے رحم طلب نظروں کی امید رکھنا اسرائیل کے دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسرائیل کی بے بسی کا ایک غیر معمولی منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے اچانک سائرن بجا کر اور 15 سیکنڈ کا ٹائمر چلا کر ارکان کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ میزائل حملوں کے دوران شہری کس ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ تاہم اس اقدام پر تنقید بھی سامنے آئی جس میں کہا گیا کہ اسی نوعیت کا بلکہ اس سے شدید خوف فلسطین اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی دیکھا جاچکا ہے۔

اجلاس میں اچانک سائرن کی آواز

اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران اچانک سائرن فعال کیا اور 15 سیکنڈ کا ٹائمر شروع کر دیا۔ ان کا مقصد اسرائیلی شہریوں کو درپیش ہنگامی صورتحال کو عالمی برادری کے سامنے واضح کرنا تھا۔ ڈینن نے کہا کہ بعض اوقات اسرائیل میں شہریوں کے پاس صرف 15 سیکنڈ ہوتے ہیں کہ وہ محفوظ مقام تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا: ’’یہ وہ وقت ہے جس میں آپ کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ پہلے کس بچے کو لے کر بھاگیں، کیا دوسروں کے لیے واپس جائیں یا کسی بزرگ والدین کی مدد کریں۔ کبھی کبھار یہ 15 سیکنڈ بھی ختم ہو جاتے ہیں اور آپ محفوظ مقام تک نہیں پہنچ پاتے۔‘‘

فلسطین میں خوف کی صورتحال

ناقدین کا کہنا ہے کہ جس خوف کا ذکر اسرائیلی سفیر نے کیا، اسی طرح کا بلکہ اس سے زیادہ شدید خوف فلسطینی علاقوں میں بھی طویل عرصے سے موجود رہا ہے۔ فرق یہ بتایا جاتا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو اکثر ایسے سائرن یا بروقت انتباہی نظام بھی دستیاب نہیں ہوتے، جس سے ان کے لیے محفوظ مقام تک پہنچنا مزید مشکل ہو جاتا تھا۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال ایران میں بھی ہے، انہیں بھی حملے سے قبل کسی سائرن یا انتباہ کا کوئی موقع نہیں ملتا ہے۔

ایران-اسرائیل کشیدگی کا تناظر

اسرائیل پر ایران کے حملوں کے نئے دور نے اسرائیلی شہریوں کے لیے زندگی مشکل بنادی ہے۔ میزائل ڈیفنس سسٹم کی ناکامی اور بنکروں میں بھاگنے کی کوششوں نے ان کے ذہن ودماغ میں خوف اور بے بسی کی نئی لہر پیدا کردی ہے۔ مبصرین کے مطابق اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اس صورتحال کا اہم پہلو ہے۔ یہ موقف سامنے آتا رہا ہے کہ جب رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے ردعمل میں جوابی کارروائی کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے اور ایسی صورت میں ہر فریق کو ممکنہ نتائج کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر حملے کا آغاز کیا اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا تو اب اسے بھی جوابی کارروائی کو پورے صبر اور سکون کے ساتھ جھیلنا چاہئے۔ یواین میں اس طرح کی بے بسی کو دکھانا اور دنیا سے رحم طلب نظروں کی امید رکھنا اسرائیل کے دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔

خطرے کو جڑ سے ختم کریں گے

اسرائیلی وفد کے مطابق سائرن کی آواز نے اجلاس میں موجود افراد کی فوری توجہ حاصل کی اور کچھ سفیروں کے چہروں پر واضح تناؤ دیکھا گیا۔ ٹائمر کے دوران ماحول سنجیدہ ہو گیا تھا۔ ڈینن نے اپنے خطاب میں کہا: ’’جب بھی ہم سے کہا گیا کہ رک جائیں اور سفارت کاری کو موقع دیں، دہشت گردی نے اس وقت کو دوبارہ مسلح ہونے کے لیے استعمال کیا۔ اسرائیل اب ایسے حل کی طرف واپس نہیں جائے گا جو اگلی جنگ کی ضمانت بنے۔ اس بار ہم خطرے کو اس کی جڑ سے ختم کریں گے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read