تہران: ایران نے علاقائی رابطوں کو فروغ دینے اور اقتصادی انضمام کو مضبوط کرنے کے لیے تین بین الاقوامی ریلوے روٹس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں ایک اہم روٹ افغانستان سے بھی جُڑے گا۔ ایرانی ریلوے کے سی ای او اور نائب وزیر برائے سڑک و شہری ترقی جبار علی ذکری نے اس اقدام کا اعلان کیا، جسے ایران کی علاقائی حکمت عملی کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
تہران سے انقرہ تک براہ راست مسافر ٹرین
ذکری کے مطابق، ایران اور ترکی کے درمیان تہران-انقرہ براہ راست مسافر ٹرین سروس کا آغاز جلد متوقع ہے، جو پہلے سے موجود تہران-وان لائن پر استوار ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سروس کے کرایے اور مالی امور پر دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت جاری ہے، اور امید ہے کہ اگلے دو ماہ کے اندر یہ سروس فعال ہو جائے گی۔
تہران و مشہد سے افغانستان کے ہرات تک ریلوے سروس
دوسری بڑی پیش رفت میں تہران اور مشہد کو افغانستان کے مغربی شہر ہرات سے جوڑنے والی ٹرین سروس کا اعلان کیا گیا ہے۔ ذکری نے بتایا کہ یہ سروس اس وقت شروع کی جائے گی جب دونوں ملکوں کے درمیان سفری دستاویزات سے متعلق مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ روزنک (Rozanak) تک مکمل کیا جائے گا، جو ہرات کے قریب واقع ہے۔ بعد میں، ایرانی کمپنیوں کے ذریعے مزید 70 کلومیٹر کی ریلوے لائن بچھا کر ٹریک کو ہرات شہر تک توسیع دی جائے گی۔
مشہد سے ترکمانستان کے شہر ماری تک نیا روٹ
تیسرا ریلوے روٹ مشہد سے ترکمانستان کے شہر ماری (Mary) تک تعمیر کیا جائے گا، جو وسطی ایشیا کے ساتھ ایران کے ریلوے روابط کو مزید مستحکم کرے گا۔ ذکری کے مطابق یہ نئے ریلوے روٹس نہ صرف سیاحت کو فروغ دیں گے بلکہ وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعلقات کو بھی مضبوط کریں گے۔
علاقائی انضمام میں ریلوے کا کردار
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان ریلوے نیٹ ورکس کی تکمیل کے بعد ایران کو ازبکستان اور تاجکستان تک آسان رسائی حاصل ہوگی، جو علاقائی انضمام کے لیے ریلوے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
افغان مہاجرین کی واپسی اور ایران سے تعاون
اس ریلوے منصوبے کے اعلان کے ساتھ ساتھ، ایران میں مقیم افغان مہاجرین کی وطن واپسی میں بھی تیزی آئی ہے۔ تولو نیوز کے مطابق، ایران سے ڈی پورٹ ہونے والے افغان شہریوں کو مفت سفری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ اپنے آبائی صوبوں تک پہنچ سکیں۔ ایک ڈی پورٹ شدہ افغان شہری محمد نے بتایا ko ہمیں مفت ٹرانسپورٹ دی گئی، جس سے ہمارا بوجھ کافی ہلکا ہوا۔ اب ہم آزادی سے اپنے گھروں کو جا سکتے ہیں۔ تاہم، کئی افغان مہاجرین نے ایران میں پولیس اور ڈرائیوروں پر زیادتی اور املاک ضبط کرنے کا الزام بھی لگایا۔ ایک اور مہاجر علی احمد نے مطالبہ کیا کہ افغان حکومت ایران سے مذاکرات کرے تاکہ افغانوں کے لیے کرایے کم کیے جا سکیں۔
ڈی پورٹ شدہ افغانوں کے تجربات
بعض مہاجرین نے بتایا کہ ایران میں علاج معالجہ، کرایے کی رہائش اور دیگر سہولیات نہ صرف مہنگی تھیں بلکہ انہیں اکثر قانونی تحفظ سے بھی محروم رکھا گیا۔ ایک ڈی پورٹی شعیب نے بتایا کہ مجھے پراپرٹی آفس لے جایا گیا، جہاں میرا معاہدہ پھاڑ دیا گیا اور کہا گیا کہ تم اس ملک کے خلاف ہو۔ تولو نیوز کے مطابق، صرف گزشتہ ماہ میں ایران سے 7 لاکھ 50 ہزار افغان شہری اسلام قلعہ بارڈر کے ذریعے افغانستان واپس آئے، جن میں اکثریت ڈی پورٹ ہونے والوں کی تھی۔
ایران کا نیا ریلوے نیٹ ورک علاقائی ترقی، اقتصادی انضمام اور سفری سہولتوں کی سمت ایک مثبت قدم ہے۔ ساتھ ہی، ایران سے افغان مہاجرین کی وطن واپسی میں مدد بھی انسانی ہمدردی کی ایک قابل قدر مثال ہے۔ یہ اقدامات پورے خطے میں باہمی تعاون اور روابط کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



