کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان جاری بدامنی کے دوران تھائی لینڈ میں ہندوستانی سفارت خانے نے جمعہ کے روز ملک میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی، جس میں ان پر زور دیا گیا کہ وہ تھائی لینڈ-کمبوڈیا سرحد پر جاری بدامنی کے درمیان ’’سات صوبوں‘‘ کا سفر کرنے سے گریز کریں۔
ہندوستانی سفارت خانے نے کہا ہے کہ ’’تھائی لینڈ-کمبوڈیا سرحد کے قریب صورت حال کے پیش نظر تھائی لینڈ آنے والے تمام ہندوستانی مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ تھائی سرکاری ذرائع سے اپ ڈیٹس چیک کرتے رہیں، بشمول TAT نیوز روم۔‘‘ اس کے ساتھ ہی تھائی لینڈ کی ٹورزم اتھارٹی کی ایک پوسٹ منسلک ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اوبون رتچاتھانی، سورین، سیساکیٹ، بریرم، سا کاائیو، چنتھابوری اور ترات صوبوں میں سیاحت کی ’’سفارش نہیں کی جا رہی ہے‘‘، یعنی ان علاقوں میں جانے سے گریز کیا جائے۔
بارودی سرنگ پھٹنے کی وجہ سے شروع ہوئی ہیں جھڑپیں
واضح رہے کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جمعرات کو ان کے ملکوں کی سرحد پر جھڑپیں ہوئیں۔ یہ فوجی جھڑپ بدھ کے روز ایک بارودی سرنگ میں دھماکے کے بعد ہوئی، جس میں تھائی لینڈ کے پانچ فوجی زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد دونوں فریقوں نے سفارتی کشیدگی میں اضافہ کرتے ہوئے اپنے سفیروں کو معطل کر دیا۔ تھائی حکام نے کمبوڈیا پر روسی ساختہ نئی بارودی سرنگیں بچھانے کا الزام لگایا، جب کہ کمبوڈیا نے ان دعوؤں کو ’بے بنیاد الزامات‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ کمبوڈیا نے کہا کہ یہ دھماکے پرانے تنازعات میں بچ جانے والی بارودی سرنگوں کی وجہ سے ہوئے۔
جھڑپوں نے بین الاقوامی تشویش کو جنم دے دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق کے مطابق، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کسی بھی مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی اپیل کی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


