پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی موت سے متعلق خبروں کے درمیان ان کی میڈیکل رپورٹ سامنے آئی ہے۔ 74 سالہ عمران خان طویل عرصے سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کی دل کی دھڑکن معمول سے کافی کم رہی، جبکہ بلڈ پریشر بھی معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
نبض کم، بلڈ پریشر زیادہ
رپورٹ کے مطابق یکم اگست کو عمران خان کا بلڈ پریشر 140/100 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ان کی نبض کی رفتار صرف 50 فی منٹ تھی۔ رپورٹ میں ذہنی دباؤ اور بے چینی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔عمران خان نے ڈاکٹروں سے مبینہ طور پر شکایت کی کہ اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے انہیں مسلسل تناؤ اور اینگزائٹی کا سامنا ہے۔
میڈیکل رپورٹ میں کیا ذکر ہے؟
میڈیکل رپورٹ میں بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، ذہنی دباؤ اور اہل خانہ سے ملاقات پر پابندی کا ذکر کیا گیا ہے۔ عمران خان نے یہ بھی شکایت کی کہ انہیں جیل میں اخبار پڑھنے اور ٹی وی دیکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ عمران خان کو اپنی اہلیہ اور اہل خانہ سے زیادہ ملاقات کا موقع دیا جائے، تاکہ ذہنی دباؤ کم ہو سکے۔ اس کے علاوہ انہیں کتابیں اور دیگر مطالعاتی مواد فراہم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
ادویات اور مزید طبی جانچ
رپورٹ کے مطابق عمران خان کو اینٹی اینگزائٹی دوا بھی دی گئی ہے اور مزید طبی ٹیسٹ تجویز کیے گئے ہیں۔ میڈیکل بورڈ نے بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، سر درد اور بے چینی جیسی شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ادویات اور نیند سے متعلق بھی سفارشات کی ہیں۔حکومت کی جانب سے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ نے انہیں صبح 10 بجے نیند کی آدھی گولی اور رات 8 بجے باقی آدھی گولی دینے کی سفارش کی ہے۔
جیل انتظامیہ کے دعوے پر بھی سوال
اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے عدالت کو بتایا تھا کہ عمران خان کو اخبار، ٹی وی اور کتابیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں ڈاکٹروں کی جانب سے انہیں اہل خانہ سے زیادہ ملاقات اور مطالعے کا مواد فراہم کرنے کی سفارش کا ذکر کیا گیا ہے۔میڈیکل بورڈ نے مسلسل ذہنی دباؤ کو ان کی صحت کے لیے تشویش کا باعث قرار دیتے ہوئے طبی نگرانی اور ضروری اقدامات کی سفارش کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


