Bharat Express DD Free Dish

IMF shows kindness to Pakistan: معاشی بحران کا شکار پاکستان پر آئی ایم ایف مہربان، اتنے ارب ڈالر کا ملا بیل آؤٹ پیکیج

سال 2024-25 میں پاکستان کی نیشنل اسمبلی نے 9.4 ٹریلین روپے کے اضافی اخراجات کی منظوری دی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔ ارکانِ پارلیمان کے براہِ راست کنٹرول میں آنے والے حلقہ جاتی ترقیاتی فنڈز بھی سرمایہ کاری کو متاثر کرتے ہیں اور نگرانی کو کمزور بناتے ہیں، جس سے عوامی وسائل کے غلط استعمال کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

نئی دہلی: پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے ایک کے بعد ایک معاشی بحران میں گھرتا جا رہا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بیل آؤٹ پیکیجوں پر اس کا انحصار مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ اب پاکستان اپنے 25ویں آئی ایم ایف قرض پروگرام کی جانب بڑھ چکا ہے۔ تازہ معاہدے کے تحت پاکستان کو 37 ماہ کے لیے 7 ارب ڈالر کا ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پیکیج ملا ہے، جس کے ساتھ 1.4 ارب ڈالر کا ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فنڈ (آر ایس ایف) بھی شامل ہے۔ اکتوبر میں ہونے والے اسٹاف لیول معاہدے کے مطابق، پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت 1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 20 کروڑ ڈالر ملیں گے۔ اس طرح دونوں انتظامات کے تحت اب تک مجموعی طور پر 3.3 ارب ڈالر کی رقم جاری کی جا چکی ہے۔

طویل مدتی اصلاحات نافذ کرنے میں ناکام ہے پاکستان

ایشیئن لائٹ اخبار میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق، یہ مالی مدد اگرچہ وقتی راحت فراہم کرتی ہے، لیکن اس سے پاکستان کا بیرونی بیل آؤٹس پر بڑھتا ہوا انحصار بھی نمایاں ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگراموں کا مقصد معاشی استحکام اور مالی نظم و ضبط قائم کرنا ہوتا ہے، مگر پاکستان اب تک طویل مدتی اصلاحات نافذ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

پاکستان میں صرف 2 فیصد لوگ ہی دیتے ہیں ٹیکس

آئی ایم ایف کا کردار گھریلو پالیسیوں کا باریک بینی سے انتظام کرنا نہیں، بلکہ مالی خسارہ کم کرنا، آمدنی میں اضافہ کرنا اور سبسڈی کو معقول بنانا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کی حکومتیں سیاسی طور پر آسان مگر سماجی طور پر نقصان دہ فیصلے کرتی رہی ہیں۔ نتیجتاً تنخواہ دار طبقے اور عام صارفین پر بوجھ بڑھتا گیا، جبکہ زراعت، رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل جیسے طاقتور شعبے ٹیکس کے دائرے سے باہر رہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف تقریباً 2 فیصد لوگ ہی انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، جو ٹیکس نظام میں سنگین عدم مساوات کی عکاسی کرتا ہے۔

15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل کرنے کا مطالبہ

نومبر 2025 میں جاری آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ میں پاکستان میں بدعنوانی کے مسلسل مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے شفافیت اور جواب دہی بڑھانے کے لیے فوری طور پر 15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بجٹ قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ کئی منصوبوں کو منظوری ملنے کے باوجود انہیں اپنی مدت کے دوران مناسب فنڈنگ نہیں مل پاتی، جس سے تاخیر اور لاگت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

9.4 ٹریلین روپے کے اضافی اخراجات کی منظوری

سال 2024-25 میں پاکستان کی نیشنل اسمبلی نے 9.4 ٹریلین روپے کے اضافی اخراجات کی منظوری دی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔ ارکانِ پارلیمان کے براہِ راست کنٹرول میں آنے والے حلقہ جاتی ترقیاتی فنڈز بھی سرمایہ کاری کو متاثر کرتے ہیں اور نگرانی کو کمزور بناتے ہیں، جس سے عوامی وسائل کے غلط استعمال کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

سرکاری اداروں کے شاہانہ اخراجات بدستور جاری

اگرچہ آئی ایم ایف مالی نظم و ضبط پر زور دیتا ہے، لیکن اصل مسئلہ پاکستان کے حکمراں طبقے میں سیاسی عزم کی کمی ہے۔ سرکاری اداروں کے شاہانہ اخراجات بدستور جاری ہیں، سبسڈی کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور اشرافیہ کے مراعات برقرار ہیں۔ دوسری طرف پنشنرز کو کٹوتیوں کا سامنا ہے اور غریب صارفین پر گیس کے فکسڈ چارجز کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

حکومت کے اختیار میں ہے لائف لائن سلیب کا نفاذ

توانائی کے شعبے میں یہ عدم مساوات صاف نظر آتی ہے۔ استعمال پر مبنی بلنگ کے بجائے فکسڈ چارجز نافذ کیے گئے ہیں، جس کا غیر متناسب اثر کم آمدنی والے خاندانوں پر پڑتا ہے۔ آئی ایم ایف لاگت کی وصولی کی بات کرتا ہے، مگر ترقی پسند ٹیرف اور لائف لائن سلیب کا نفاذ مکمل طور پر پاکستان حکومت کے اختیار میں ہے۔

آئی ایم ایف اور پیرس میں قائم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) دونوں نے ڈیٹا پر مبنی سکیورٹی اقدامات، بدعنوانی مخالف رہنما اصولوں اور مؤثر جانچ کی ضرورت پر زور دیا ہے، لیکن ان سفارشات پر عمل درآمد کی رفتار انتہائی سست رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read