اسلام آباد– پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے جیل سے ایک چونکا دینے والا بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ان کے ساتھ کوئی انہونی ہوتی ہے تو اس کے ذمہ دار فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ہوں گے۔
سخت سلوک اور بنیادی حقوق کی پامالی کا الزام
عمران خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ حال کے دنوں میں جیل میں میرے ساتھ ہونے والا سخت سلوک اور بھی بڑھ گیا ہے۔ یہی رویہ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف بھی اپنایا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ ان کی کوٹھری کا ٹی وی بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ہمارے تمام بنیادی اور قانونی حقوق معطل کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جیل میں ان کے ساتھ ہونے والا رویہ ظلم و جبر پر مبنی ہے، اور اس کے پیچھے ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ عاصم منیر کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔
پارٹی کو واضح پیغام: جابرانہ نظام کے خلاف ڈٹے رہیں
عمران خان نے اپنی پارٹی کے کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر جیل میں میرے ساتھ کچھ بھی ہوتا ہے تو اس کے لیے جنرل عاصم منیر کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ میں پوری زندگی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم کے آگے جھکنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پاکستانی عوام کبھی بھی اس جابرانہ نظام کے سامنے نہ جھکیں۔ اب بات چیت کا وقت گزر چکا ہے، اب ملک گیر احتجاج کا وقت ہے۔
دیگر قیدیوں سے امتیازی سلوک کا الزام
عمران خان نے جیل میں ہونے والے امتیازی سلوک کی بھی نشاندہی کی، ان کے مطابق بعض قاتلوں اور دہشت گردوں کو جیل میں وی آئی پی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جب کہ ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
مریم نواز اور محسن نقوی پر سخت تنقید
اپنے بیان میں عمران خان نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ دونوں افراد گزشتہ دو برسوں سے پنجاب میں ظلم اور فاشزم کی فضا قائم کیے ہوئے ہیں۔
عمران خان کی بہن کا بیان
عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھی میڈیا سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ عمران خان نے پارٹی قیادت کو پیغام دیا ہے کہ اگر ان کے ساتھ کچھ بھی ہوتا ہے تو جنرل عاصم منیر کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جائے۔ عمران خان کے ان بیانات نے پاکستان کی سیاسی فضا کو مزید گرما دیا ہے، جب کہ پی ٹی آئی نے 5 اگست سے ملک گیر احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان حالات میں ملک میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


