Bharat Express DD Free Dish

Hands Off Protests: احتجاج ومظاہرے کے طوفان کا سامنا کررہے ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ضد پر قائم،پالیسی تبدیل کرنے سے کردیا انکار، احتجاج مزید تیز

مظاہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے، ان کا کہنا تھا کہ دولت مند گروہ نے حکومت پر قبضہ کر لیا ہے، سرکاری ملازمین کی جبری برطرفیاں اور بنیادی حقوق پر قدغن کسی طور قبول نہیں۔

امریکہ میں ہفتے کا دن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاج کا ریکارڈ ساز دن رہا، جب مظاہروں نے امریکہ بھر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔روئٹرز کے مطابق ہفتے کے روز واشنگٹن، ڈی سی اور پورے امریکہ میں ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے، اور تقریباً 1,200 مقامات پر مظاہرے کیے گئے۔ ٹرمپ کے مخالفین صدر کی جانب سے انتظامی احکامات کے ذریعے خارجی اور داخلی پالیسیوں میں کی جانے والی بڑے پیمانے پر کی جانے والی تبدیلیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔

امریکہ کی 50 ریاستوں کے علاوہ کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، میکسیکو اور پرتگال میں بھی ریلیاں نکالی جارہی ہیں جب کہ سب سے بڑی ریلی واشنگٹن کے نیشنل مال میں نکالی گئی ۔رپورٹ کے مطابق “Hands Off!” کے نام سے ہونے والے احتجاج کے لیے نیویارک میں بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوگئے ہیں جبکہ  واشنگٹن کے نیشل مال کے باہر مظاہرے میں 20 ہزار سے زائد افراد  نے شرکت کی۔رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے ٹرمپ اور ایلون مسک کے خلاف نعرے لگانے کے ساتھ امریکہ میں حقیقی جمہوریت کی بحالی اور عوام مخالف پالیسیاں واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔واضح رہے ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ٹرمپ کے خلاف یہ سب سے بڑا مظاہرہ ہے۔

مظاہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے، ان کا کہنا تھا کہ دولت مند گروہ نے حکومت پر قبضہ کر لیا ہے، سرکاری ملازمین کی جبری برطرفیاں اور بنیادی حقوق پر قدغن کسی طور قبول نہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ امیگریشن، ٹیرف، تعلیم غرض ہر تمام ادارے حملے کی زد میں ہے، وہ سبھی جو امریکا کو امریکا بناتی ہیں۔دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کے باوجود وہ اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کریں گے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read