نئی دہلی : برازیل میں لوئس اناسیو لولا دا سلوا ایک بار پھر صدارتی انتخاب جیتنے میں کامیاب رہے۔ دوسرے مرحلے میں کامیابی کے بعد دائیں بازو کے رہنما فلاویو بولسونارو نے انتخابی نتائج منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایک بیان نے سیاسی صورت حال بدل دی۔ ٹرمپ کی جانب سے برازیل کے انتخابی عمل میں مداخلت نہ کرنے کے اشارے ملنے کے چند گھنٹوں بعد بولسونارو نے اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے نتائج منسوخ کرانے کا مطالبہ ترک کر دیا۔ ان کی لبرل پارٹی (پی ایل) نے بھی صدر لولا کی جیت کو تسلیم کر لیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، میں امریکہ چلا رہا ہوں، برازیل نہیں
پیر کو ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے پہلے صحافیوں نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا وہ برازیل کے انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں کوئی قدم اٹھانا چاہتے ہیں؟ اس پر ٹرمپ نے کہا، ’’میں برازیل نہیں چلا رہا ہوں، میں امریکہ چلا رہا ہوں۔‘‘ ٹرمپ نے انتخابی عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں لولا پسند ہیں اور ان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، لیکن انتخاب کرانے کا طریقہ اور ووٹوں کی گنتی کا انداز انہیں درست نہیں لگا۔ انہوں نے کہا کہ ووٹنگ کا وقت بڑھایا جانا غیر معمولی تھا۔’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے اپنے حق میں مداخلت نہ کرنے کے اشارے دیے جانے کے چند ہی منٹ بعد بولسونارو نے انتخابی شکست کے بعد اپنا موقف تبدیل کر لیا۔
لبرل پارٹی نے بھی لولا کی جیت تسلیم کی
’فولہا ڈی ایس پاؤلو‘ کی رپورٹ کے مطابق، پیر کی شام لبرل پارٹی کے صدر والدیمر کوسٹا نیٹو نے ایک بیان میں کہا کہ پارٹی سپیریئر الیکٹورل کورٹ (ٹی ایس ای) کی جانب سے اعلان کردہ صدارتی انتخاب کے نتائج کو قبول کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کو متوازن اور جمہوری سیاسی بحث کے ذریعے مناسب انداز میں واضح کیا جانا چاہیے۔سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں بولسونارو نے واضح طور پر اپنی شکست تسلیم نہیں کی، لیکن کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی قیادت کریں گے۔ انتخاب میں دائیں بازو کے اتحاد کو کانگریس میں اکثریت حاصل ہوئی ہے۔بولسونارو نے کہا، ’’افراتفری کا مقابلہ کرنے کے لیے میں اپوزیشن کو منظم کروں گا۔‘‘ انہوں نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کو اپنی مضبوط سیاسی بنیاد بنانے کی بات بھی کہی۔انہوں نے کہا کہ ان کی انتخابی مہم لولا کے انتخابی اتحاد کو معاشی طاقت کے غلط استعمال کے الزام میں نااہل قرار دینے کا مطالبہ کرے گی۔ بولسونارو نے کہا، ’’شکست میری نہیں ہوئی، بلکہ نظام جیت گیا۔‘‘
پہلے انتخابی نتائج منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا
اس سے پہلے اتوار کی رات بولسونارو نے انتخابی نتائج قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ’فولہا‘ کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے سپریم فیڈرل کورٹ کے جج کرسٹیانو زانین کے اس فیصلے کا حوالہ دیا تھا جس کے تحت ووٹنگ کا وقت بڑھایا گیا تھا۔ ووٹنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست اصل میں لولا کی ورکرز پارٹی نے کی تھی۔ پارٹی نے ووٹروں کو پولنگ مراکز تک پہنچانے کے لیے نقل و حمل کی سہولتوں کی کمی کی شکایت کی تھی۔ ’ایل پائس‘ کی رپورٹ کے مطابق، بعد میں بولسونارو کی لبرل پارٹی بھی اس درخواست میں شامل ہوگئی تھی۔انتخابی نتائج کے مطابق، لولا کو تقریباً 6.4 کروڑ ووٹ ملے، جبکہ بولسونارو کو تقریباً 5.9 کروڑ ووٹ حاصل ہوئے۔ لولا کو لگ بھگ 51 فیصد اور بولسونارو کو تقریباً 48 فیصد ووٹ ملے۔
ٹرمپ نے اسرائیلی انتخابات میں حمایت کا بھی دفاع کیا
اس دوران ٹرمپ نے اسرائیل کے انتخابات میں دو مرتبہ حمایت ظاہر کرنے کے اپنے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دوسری مرتبہ حمایت کے لیے ان سے درخواست کی تھی؟ٹرمپ نے کہا، ’’نہیں، میں نے اس بارے میں کبھی بات نہیں کی۔ میں نے دونوں کے حق میں بیان دیا تھا۔ میں نے دونوں کی حمایت کی تھی۔‘‘ نیتن یاہو کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود انہوں نے وزیر اعظم کی حیثیت سے اچھا کام کیا ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے انعام کا اعلان
ٹرمپ نے 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ووٹروں کو دھوکہ دہی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 10 لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان بھی کیا۔یہ انعام ایسے معاملات میں معلومات دینے والے شخص کو دیا جائے گا جن کے نتیجے میں کسی کی گرفتاری اور اسے سزا ملنے کی نوبت آئے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

