Bharat Express DD Free Dish

Crude oil could reach $125 per barrel! خام تیل پہنچ سکتا ہے 125 ڈالر فی بیرل! مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات پر آئی ایم ایف کی بڑی وارننگ

اگر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع مزید طول پکڑتا ہے تو عالمی معیشت کو ایک اور بڑا جھٹکا برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے دنیا بھر کی حکومتوں کو بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تناؤ کے حوالے سے عالمی معیشت کو بڑی وارننگ دی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق اگر یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہا تو خام تیل کی قیمتیں 125 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں اور عالمی معیشت شدید دباؤ میں آکر کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنی تازہ ترین ’ورلڈ اکنامک آؤٹ لک‘ رپورٹ میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ خاص طور پر اگر آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے کی آمدورفت بند ہوجاتی ہے یا توانائی کے بڑے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے تو دنیا بھر میں تیل اور گیس کی سپلائی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔

تین ممکنہ منظرنامے

آئی ایم ایف نے موجودہ صورتحال کے ممکنہ اثرات کو مختلف منظرناموں میں تقسیم کیا ہے۔ نسبتاً بہتر صورتحال: اگر جنگ جلد ختم ہوجاتی ہے اور سال کے وسط تک عالمی توانائی کی منڈیاں مستحکم ہوجاتی ہیں، تب بھی 2026 میں عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار کم ہوکر تقریباً 3.1 فیصد رہ سکتی ہے۔ اس دوران مہنگائی کا دباؤ بھی برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔  سنگین صورتحال: اگر خام تیل کی قیمتیں تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس برقرار رہتی ہیں تو عالمی اقتصادی ترقی کی شرح گھٹ کر 2.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ انتہائی تشویشناک صورتحال: اگر خام تیل کی قیمت رواں سال 110 ڈالر فی بیرل اور اگلے سال بڑھ کر 125 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہے تو عالمی اقتصادی ترقی کی شرح محض 2 فیصد تک محدود ہوسکتی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق یہ صورتحال عالمی کساد بازاری کے خطرے کی جانب واضح اشارہ ہوگی۔ اس دوران عالمی مہنگائی بھی تقریباً 6 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

حکومتوں کو غیر ضروری اخراجات سے بچنے کا مشورہ

آئی ایم ایف کے چیف اکانومسٹ پیری اولیویئر گورینشا نے کہا ہے کہ اگر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع مزید طول پکڑتا ہے تو عالمی معیشت کو ایک اور بڑا جھٹکا برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے دنیا بھر کی حکومتوں کو بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ ادارے نے کہا ہے کہ حکومتوں کو بڑے پیمانے پر اور بغیر منصوبہ بندی کے سرکاری اخراجات سے گریز کرنا چاہیے۔ آئی ایم ایف کے مطابق دنیا پہلے ہی بلند مہنگائی اور بھاری قرضوں کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں اگر حکومتیں عوام یا معیشت کو سہارا دینے کے لیے اضافی اقدامات کرتی ہیں تو انہیں محدود، ہدف پر مبنی اور منصوبہ بند ہونا چاہیے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں آئی ایم ایف کی یہ وارننگ عالمی توانائی بازار، مہنگائی اور اقتصادی ترقی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read