واشنگٹن: صاف پانی، مناسب صفائی ستھرائی اور صحت کی بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث نائجیریا کی شمال مشرقی ریاست بورنو میں گزشتہ دو ماہ کے دوران ہیضے کی وبا سے تقریباً 200 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یہ انکشاف بین الاقوامی طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے کیا ہے، جسے عالمی سطح پر میڈیسنز سانس فرنٹیئرز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
تیزی سے پھیل رہی ہے وبا
مقامی وقت کے مطابق بدھ کو جاری بیان میں تنظیم نے بیماری کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جاری امدادی کوششوں کے باوجود ہیضے کی وبا مقامی صحت کے نظام پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ تنظیم نے بورنو ریاستی حکومت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 12 جولائی تک کم از کم 198 افراد ہلاک ہو چکے تھے، جبکہ 35 ہزار 500 سے زائد مشتبہ مریض سامنے آ چکے ہیں۔
ہزاروں مریضوں کا علاج جاری
ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے بتایا کہ سرکاری محکمۂ صحت اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے اشتراک سے 12 جولائی تک 24 ہزار سے زیادہ مشتبہ مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، تنظیم نے متاثرہ علاقوں میں صاف پانی، حفظانِ صحت کی سہولیات اور طبی خدمات کی شدید کمی کو بیماری کے مسلسل پھیلاؤ کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
حکومت اور عالمی ادارے متحرک
اپریل میں نائجیریا کے قومی ادارۂ انسداد و تدارکِ امراض نے شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث ہیضے کے ممکنہ پھیلاؤ کے پیش نظر ملک کی دس ریاستوں میں ہائی الرٹ جاری کیا تھا۔ نائجیریا کی حکومت نے اپنی ہنگامی آفات سے نمٹنے کی مشینری فعال کر دی ہے اور متاثرہ علاقوں میں طبی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی ادارۂ صحت، اقوام متحدہ کا ادارہ برائے اطفال اور ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز سمیت کئی بین الاقوامی تنظیمیں بھی وبا پر قابو پانے کی کوششوں میں تعاون کر رہی ہیں۔
بورنو میں ہنگامی اقدامات نافذ
بورنو ریاستی حکومت کے سیکریٹری بکر تجانی نے بتایا کہ ریاست میں ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں، جن میں مقامی ڈیموں اور آبی ذخائر جیسے پانی کے ذرائع تک رسائی محدود کرنا اور ٹینکروں کے ذریعے محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی میں اضافہ شامل ہے، جبکہ وبا کے اصل سبب کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔
ہیضہ اب بھی بڑا چیلنج
آلودہ خوراک یا پانی سے پھیلنے والی ہیضے کی بیماری نائجیریا، خصوصاً سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور کمزور آبی و صفائی کے نظام والی ریاستوں میں، اب بھی صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


