نئی دہلی:ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اپنے ہتھیاروں کی پیداوار میں چار گنا اضافہ کرے گا۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان دونوں جانب سے مسلسل آٹھ دنوں سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے امریکہ کی بڑی دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی، جس میں پیداوار اور اس کے شیڈول پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ان کے مطابق کمپنیوں نے اعلیٰ معیار کے ہتھیاروں کی پیداوار چار گنا بڑھانے پر اتفاق کیا ہے اور حکومت جلد از جلد زیادہ سے زیادہ مقدار میں ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس توسیعی منصوبے پر میٹنگ سے تقریباً تین ماہ قبل ہی کام شروع ہو چکا تھا اور کئی ہتھیاروں کے کارخانے پہلے ہی فعال ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے پاس درمیانے اور اعلیٰ درجے کے گولہ بارود کی تقریباً لامحدود سپلائی موجود ہے، جس کا استعمال ایران سمیت دیگر مقامات پر کیا جا رہا ہے، اور اس کے باوجود مزید آرڈرز بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس میٹنگ میں بی اے ای سسٹمز، بوئنگ، ہنی ویل ایرو اسپیس، ایل تھری ہیرس میزائل سلوشنز، لاک ہیڈ مارٹن، نارتھروپ گرومین اور ریتھیون جیسی بڑی دفاعی کمپنیوں کے سی ای اوز نے شرکت کی۔ امریکہ کی مختلف ریاستیں نئے دفاعی کارخانوں کے قیام کے لیے پیشکشیں بھی دے رہی ہیں۔
ایران کا سخت ردعمل
دوسری جانب ایران کے صدر مسعودپزشکیان نے امریکہ کے مؤقف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن تہران کو بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے، لیکن یہ ایک ایسا خواب ہے جو کبھی پورا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اس خیال کو اپنے ساتھ قبر تک لے جانا چاہیے۔ایران کے صدر مسعودپزشکیان نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا جب ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایران کو بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈالنے کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ایران کو پہلے سرینڈر کرنا ہوگا۔
ایران کے صدر مسعودپزشکیان نے خلیجی ممالک کے حوالے سے بھی اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کرے گا، جب تک ان ممالک کی سرزمین سے ایران پر کوئی حملہ نہ کیا جائے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس فیصلے کی منظوری ملک کی عبوری قیادت کونسل نے بھی دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتا اور مستقبل میں ایسے حملوں سے گریز کرنے کی کوشش کرے گا۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے آٹھویں دن سامنے آنے والا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس کشیدگی کے بعد سے ایران اسرائیل سمیت مشرق وسطیٰ کے دس سے زیادہ ممالک کو نشانہ بنا چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


