Urdu Conclave 2026

Singer Mary Millben Calls Zohran Mamdani Radical: زہران ممدانی ’انتہا پسند‘ اور ’غلط راستے‘ پر ہیں…‘‘، امریکی سنگر میری مل بین کا نیویارک کے میئر پر بڑا الزام

میری مل بین بھارتی سامعین میں ’جن گن من‘ اور بھجن ’اوم جے جگدیش ہرے‘ کی پیشکش کے لیے جانی جاتی ہیں۔ وہ بھارت اور ہند نژاد امریکی برادری سے متعلق متعدد پروگراموں میں شرکت کر چکی ہیں اور عوامی طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے تئیں اپنی حمایت کا اظہار بھی کرتی رہی ہیں۔

واشنگٹن: امریکی سنگر میری مل بین نے نیویارک کے میئر زہران ممدانی کو ’انتہا پسند‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’غلط راستے‘ پر گامزن ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ممدانی ایک ایسی سوشلسٹ تحریک کی حمایت کر رہے ہیں جو امریکی جمہوری اقدار کی نمائندگی نہیں کرتی۔ میری مل بین نے ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ (ڈی ایس اے) کا حوالہ دیتے ہوئے آئی اے این ایس کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں یہ تبصرہ کیا۔

انہوں نے کہا، ’’وہ ایک انتہا پسند ہیں۔ یہی اس ڈی ایس اے تحریک کی نوعیت ہے۔ اس میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو یہ نہیں سمجھتے کہ دنیا کیسے کام کرتی ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ کیسے کام کرتا ہے اور یقیناً یہ بھی نہیں سمجھتے کہ نیویارک کیسے کام کرتا ہے۔ وہ خود بھی نہیں سمجھتے۔‘‘

موہن بھاگوت کے دورے کے خلاف ممدانی کے بیان پر ردعمل

میری مل بین سے یہ سوال راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کے نیویارک دورے کی مخالفت میں ممدانی کے تبصروں کے حوالے سے پوچھا گیا تھا۔ آر ایس ایس سربراہ 29 اگست کو ’ایکاتمتا‘ اور ’ایکتا‘ جیسے موضوعات پر مرکوز ایک پروگرام سے خطاب کرنے والے ہیں۔

مل بین نے کہا کہ ممدانی کی تنقید کو ڈیموکریٹک پارٹی کے سوشلسٹ دھڑے سے ان کی وابستگی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’تنازع کا اصل مسئلہ ممدانی کی ڈی ایس اے سے وابستگی ہے۔ یہ امریکہ کی ایک ڈیموکریٹک سوشلسٹ تنظیم ہے، جو ڈیموکریٹک پارٹی کا حصہ ہے۔‘‘

ممدانی پر سوشلسٹ ایجنڈے کی حمایت کا الزام

مل بین نے کہا کہ ان کے کئی دوست ڈیموکریٹک پارٹی سے منتخب عہدوں پر فائز ہیں، لیکن وہ سوشلسٹ تحریک یا اس کے ایجنڈے کی حمایت نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا، ’’لیکن ممدانی نے خود کو ڈیموکریٹک پارٹی کے اسی دھڑے اور اس کے ایجنڈے سے جوڑ لیا ہے۔‘‘ مل بین نے الزام لگایا کہ یہ تحریک جمہوریت اور مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔

ممدانی کی تنقید موہن بھاگوت تک محدود نہیں

میری مل بین نے کہا کہ ممدانی کے تبصرے صرف موہن بھاگوت کے خلاف نہیں بلکہ وسیع تر طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ تبصرے ضروری نہیں کہ آر ایس ایس سربراہ کے خلاف ہوں بلکہ وزیر اعظم مودی اور بھارت کے تناظر میں ان کی جانب سے پیش کیے جانے والے مذہبی آزادی کے نظریے کے خلاف تھے۔‘‘

ممدانی باصلاحیت نوجوان ہیں: میری مل بین

اگرچہ میری مل بین نے ممدانی پر سخت تنقید کی، لیکن انہوں نے انہیں ایک باصلاحیت نوجوان سیاست دان بھی قرار دیا اور کہا کہ اگر وہ اپنی سمت تبدیل کریں تو ان کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وہ ایک باصلاحیت نوجوان ہیں۔ بس انہیں غلط سمت مل گئی ہے اور اپنی ہی پارٹی کے اندر وہ غلط لوگوں کے اثر میں ہیں۔‘‘ مل بین نے مزید کہا، ’’اگر ممدانی ڈیموکریٹک پارٹی میں صحیح رہنمائی کے ساتھ ہوتے اور دنیا، امریکہ اور نیویارک کے کام کرنے کے طریقے کو بہتر طور پر سمجھتے تو میرے خیال میں ان کا مستقبل بہت اچھا ہو سکتا تھا، کیونکہ ان میں صلاحیت ہے۔‘‘

نوجوان لیڈران سے امریکی اقدار کو آگے بڑھانے کی اپیل

میری مل بین نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ امریکہ کے نوجوان منتخب لیڈر ملک کی اقدار کو آگے بڑھاتے ہوئے کامیاب ہوں، تاہم ان کے مطابق ممدانی کی سیاسی وابستگیاں ان اقدار کی عکاسی نہیں کرتیں۔ انہوں نے کہا، ’’انہیں گمراہ کیا گیا ہے۔ یہ افسوسناک ہے، کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ امریکہ کا ہر نوجوان لیڈر اور ہر نوجوان منتخب نمائندہ ملک کی اقدار کو فروغ دیتے ہوئے کامیاب ہو۔‘‘

ممدانی کو اپنے سیاسی نظریات پر نظرثانی کرنی چاہیے

انہوں نے ممدانی سے اپنے خطابات میں استعمال کی جانے والی زبان اور ان سیاسی نظریات پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی جن سے وہ خود کو وابستہ کرتے ہیں۔ مل بین نے کہا، ’’امید ہے کہ وہ بیدار ہوں گے اور سمجھیں گے کہ حالیہ خطابات میں جن باتوں کو وہ دہرا رہے ہیں اور جن سیاسی نظریات سے خود کو جوڑ رہے ہیں، وہ ایک تباہ کن راستہ ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’فی الحال میں صرف اتنا کہہ سکتی ہوں کہ وہ غلط راستے پر ہیں۔ یہ دیکھنا افسوسناک ہے، لیکن حیران کن نہیں۔‘‘

کیا ہے ڈی ایس اے؟

ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ خود کو ایک سیاسی اور سماجی تنظیم قرار دیتی ہے، جس کا مقصد زیادہ جمہوری معیشت کی تشکیل ہے۔ اس کے ارکان انتخابی سیاست، مزدور تنظیموں اور سماجی مہمات میں فعال کردار ادا کرتے ہیں اور اکثر ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، نہ کہ ایک الگ قومی سیاسی جماعت کے طور پر۔

یہ بھی پڑھیں: موہن بھاگوت کے پروگرام سے قبل ہندو تنظیموں نے جاری کیا سکیورٹی الرٹ، میئر ممدانی سے حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کا مطالبہ

’جن گن من‘ اور ’بھجن ‘ سے بھارت میں مقبول

میری مل بین بھارتی سامعین میں ’جن گن من‘ اور بھجن ’اوم جے جگدیش ہرے‘ کی پیشکش کے لیے جانی جاتی ہیں۔ وہ بھارت اور ہند نژاد امریکی برادری سے متعلق متعدد پروگراموں میں شرکت کر چکی ہیں اور عوامی طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے تئیں اپنی حمایت کا اظہار بھی کرتی رہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read