Bharat Express DD Free Dish

US H-1B Visa: ٹرمپ انتظامیہ کا ایک اور جھٹکا: H-1B ویزا کے قوانین مزید سخت کرنے کی تیاری، لاکھوں بھارتی ہوں گے متاثر

اگر یہ اصلاحات لاگو ہوئیں تو یہ نہ صرف بھارتی ماہرین کے لیے امریکہ جانے کا خواب مزید مشکل بنا دیں گی بلکہ امریکی معیشت، بالخصوص ٹیک اور صحت کے شعبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں، جو بڑی حد تک غیر ملکی ہنر پر انحصار کرتے ہیں۔

امریکہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں انتظامیہ ایک بار پھر H-1B ویزا پروگرام میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری کر رہی ہے، جو بالخصوص بھارتی اور چینی پیشہ ور افراد کو متاثر کرے گا۔ ویزا فیس میں ممکنہ اضافہ، سخت eligibility شرائط اور آجرین (employers) کی ذمہ داریوں میں اضافہ شامل ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی اس پروگرام کے تحت ویزا درخواست دینے والوں پر $100,000 (تقریباً 83 لاکھ بھارتی روپے) فیس لگانے کی تجویز دے چکی ہے۔ اب نئی مجوزہ اصلاحات کے تحت ویزا کے استعمال، اہلیت، اور کمپنیوں کی شفافیت کے قوانین مزید سخت کیے جائیں گے۔

یہ تبدیلیاں امریکی محکمہ داخلہ سلامتی (Department of Homeland Security – DHS) کے نئے ریگولیٹری ایجنڈے میں شامل ہیں، جسے “H-1B Non-Immigrant Visa Classification Program Improvement” کے عنوان سے فیڈرل رجسٹر میں درج کیا گیا ہے۔

مجوزہ اہم تبدیلیاں:

حد سے مستثنیٰ (Cap-Exempt) اداروں کے لیے معیار میں ممکنہ تبدیلی، تیسری پارٹی کی تعیناتیوں (Third-Party Placements) پر سخت نگرانی،شرائط کی خلاف ورزی کرنے والے آجرین کے خلاف کریک ڈاؤن، شفافیت اور ویج ریپورٹنگ کے اصولوں کو سخت بنانا

DHS کے مطابق یہ اقدامات H-1B پروگرام کے “استعمال میں شفافیت” اور “امریکی ملازمین کے حقوق کے تحفظ” کے لیے ضروری ہیں۔

مستثنیٰ اداروں پر بھی اثر ممکن

فی الوقت واضح نہیں کہ یہ تبدیلیاں یونیورسٹیوں، تحقیقاتی اداروں اور غیر منافع بخش طبی تنظیموں پر بھی لاگو ہوں گی یا نہیں، جو موجودہ قوانین کے تحت ویزا کوٹہ سے مستثنیٰ ہوتی ہیں۔ اگر ان اداروں پر بھی پابندیاں لگیں تو تعلیمی، تحقیقی اور صحت کے شعبوں پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔

نئے قوانین کا نفاذ کب ہوگا؟

ریگولیٹری نوٹس کے مطابق یہ ضوابط دسمبر 2025 میں لاگو کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی  ٹرمپ انتظامیہ H-1B ویزا کی ویج بیسڈ سلیکشن سسٹم (Wage-Based Selection System) متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت زیادہ تنخواہ والے امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی، بجائے موجودہ لاٹری سسٹم کے۔

بھارتی پیشہ ور افراد پر اثر

نئی پالیسیوں کا سب سے زیادہ اثر بھارتی اور چینی نوجوانوں پر متوقع ہے، جو امریکہ کی ٹیکنالوجی اور طبی صنعتوں میں بڑی تعداد میں کام کرتے ہیں۔ Pew Research Center کے مطابق2023 میں جاری کیے گئے H-1B ویزا میں سے 74 فیصد بھارتی شہریوں کو دیے گئے، جن میں اکثریت کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی شعبے سے وابستہ افراد کی تھی۔

H-1B ویزا کیا ہے؟

یہ ایک عارضی ورک ویزا ہے، جو امریکی کمپنیاں غیر ملکی ماہرین کو بھرتی کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اس کے تحت ہر سال 65,000 عام ویزے اور 20,000 ویزے اُن غیر ملکیوں کے لیے مختص ہوتے ہیں، جنہوں نے امریکہ سے ماسٹر یا اس سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہو۔ بعض تعلیمی اور تحقیقی ادارے اس کوٹہ سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔

نیا نظام اور ممکنہ نتائج

ویزا درخواست کی لاگت میں نمایاں اضافہ، ویزا کی منظوری میں تاخیراورزیادہ چھان بین، کم تنخواہ والے امیدواروں کی کامیابی کے امکانات میں کمی، بھارت اور دیگر ممالک سے درخواستوں کی تعداد میں ممکنہ کمی، تعلیمی اور صحت کے شعبوں میں ماہرین کی کمی

اگر یہ اصلاحات لاگو ہوئیں تو یہ نہ صرف بھارتی ماہرین کے لیے امریکہ جانے کا خواب مزید مشکل بنا دیں گی بلکہ امریکی معیشت، بالخصوص ٹیک اور صحت کے شعبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں، جو بڑی حد تک غیر ملکی ہنر پر انحصار کرتے ہیں۔

بھارت اکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read