نئی دہلی: امریکہ میں شدید برفانی طوفان نے تباہی مچا رکھی ہے۔ ہفتہ کی صبح تک کم از کم 16 امریکی ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ طوفان کے باعث فضائی خدمات بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور ہزاروں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ جن ریاستوں میں ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا ہے ان میں ڈیلاویئر، میزوری، آرکنسس، لوئیزیانا، مسیسیپی، ٹینیسی، الباما، جارجیا، نارتھ کیرولینا، ساؤتھ کیرولینا، ورجینیا، نیویارک، کینٹکی، میری لینڈ، نیو جرسی اور کینسس شامل ہیں۔
ہزاروں پروازیں منسوخ، صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ
امریکی میڈیا کے مطابق، فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ اویئر نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق ہفتہ کی صبح 2 بجے تک اتوار کے لیے مقرر 5,100 سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئی تھیں۔ جمعہ کی رات کے بعد سے مزید تقریباً 1,000 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جبکہ ہفتہ کے دن کی 3,200 پروازیں پہلے ہی رد کی جا چکی ہیں۔ فلائٹ بکنگ سائٹس کے مطابق، یہ صورتحال ماضی کے بڑے حکومتی شٹ ڈاؤن سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ گزشتہ سال 9 نومبر کو شٹ ڈاؤن کے عروج پر تقریباً 1,900 پروازیں منسوخ ہوئی تھیں، جبکہ اس بار یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔
صدر ٹرمپ کا بیان، عوام کو محتاط رہنے کی اپیل
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ انہیں ریکارڈ سردی اور شدید برفانی طوفان کے بارے میں بریف کیا گیا ہے جو اس ہفتے امریکہ کے بیشتر حصوں کو متاثر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ریاستی اور مقامی حکام کے ساتھ تال میل میں ہے اور فیما (FEMA) کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ صدر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ محفوظ رہیں اور خود کو گرم رکھیں۔
وائٹ ہاؤس اور فیما مکمل الرٹ پر
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کو مسلسل صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے اور تمام محکمے آپس میں رابطے میں ہیں۔ ادھر فیما کی 28 اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں فوری تعیناتی کے لیے تیار رکھی گئی ہیں۔ ممکنہ طور پر طویل بجلی بندش اور سڑکوں کی بندش کے پیش نظر، فیما نے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں پہلے ہی امدادی سامان پہنچا دیا ہے، جس میں 70 لاکھ سے زائد غذائی پیکیٹ، 20 لاکھ لیٹر سے زیادہ پانی، 6 لاکھ سے زائد کمبل اور 300 سے زیادہ جنریٹر شامل ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


