Bharat Express DD Free Dish

Adhav Arjun’s Controversial Statement: آدھو ارجن کے بیان پر رجنی کانت نے توڑی خاموشی، کہا – “وقت خود جواب دیتا ہے”

اپنے خط میں رجنی کانت نے تمل ناڈو کے کئی سرکردہ لیڈران کا نام لیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا، جن میں ایڈاپادی پلانی سوامی، نینار ناگیندرن، ایل مروگن، تھول تھیروماؤلَون اور ایس پی ویلومنی شامل ہیں۔

اداکار رجنی کانت۔

چنئی: جنوبی ہندوستان کے مشہور اداکار رجنی کانت نے ٹی وی کے لیڈر آدھو ارجن کے متنازع بیان پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے اپنے مداحوں، سیاستدانوں اور فلمی صنعت کے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا۔

متنازع بیان پر ردعمل

رجنی کانت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے خط میں لکھا کہ ان کے خلاف دیے گئے غلط بیانات ان کے لیے کوئی نئی بات نہیں، لیکن وقت ہمیشہ سچ کو سامنے لے آتا ہے۔ انہوں نے ان تمام افراد کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے آدھو ارجن کے توہین آمیز تبصروں کی مذمت کی اور ان کی حمایت میں آواز اٹھائی۔

سیاسی لیڈران کا شکریہ

اپنے خط میں رجنی کانت نے تمل ناڈو کے کئی سرکردہ لیڈران کا نام لیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا، جن میں ایڈاپادی پلانی سوامی، نینار ناگیندرن، ایل مروگن، تھول تھیروماؤلَون اور ایس پی ویلومنی شامل ہیں۔

مداحوں اور فلمی برادری کا اعتراف

انہوں نے فلم انڈسٹری اور میڈیا کے ساتھیوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور خاص طور پر اپنے مداحوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ رجنی کانت نے کہا کہ ان کے مداح ان کے لیے دیوتاؤں کی طرح ہیں، جنہوں نے ہر مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا اور حوصلہ بڑھایا۔ اپنے خط کے آخر میں رجنی کانت نے لکھا، ’’وقت بولتا نہیں ہے، بلکہ انتظار کرتا ہے اور جواب دیتا ہے۔

تنازع کی اصل وجہ

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب آدھو ارجن نے 12 مارچ کو ایک احتجاج کے دوران الزام لگایا کہ جب رجنی کانت سیاست میں آنے کا ارادہ کر رہے تھے تو دراوڑ منیتر کڑگم (ڈی ایم کے) نے انہیں دھمکایا اور سیاست میں آنے سے روک دیا۔ اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی اور سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read