ممبئی: بالی وڈ کے مشہور اسکرین رائٹر اور سلمان خان کے والد سلیم خان کی صحت کے حوالے سے مسلسل اپڈیٹس سامنے آ رہے ہیں۔ وہ ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں داخل ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹروں نے ان کی صحت کی تازہ ترین معلومات شیئر کی ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق، سلیم خان کو منیمل برین ہیمبریج ہوا تھا، مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ اس کے لیے سرجری کی ضرورت نہیں پڑی۔ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کی ریکوری تھوڑی سست ہے، مگر حالت میں مسلسل بہتری دیکھی جا رہی ہے۔
سلیم کو ہوا تھا منیمل برین ہیمبریج
لیلاوتی اسپتال میں ان کا علاج کرنے والے سینئر ڈاکٹر جلیل پارکر نے بتایا کہ سلیم خان کو منیمل برین ہیمبریج ہوا تھا۔ ایسے معاملات میں عام طور پر سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کی ڈیجیٹل سبٹریکشن اینجیوگرافی (ڈی ایس اے) کی گئی، جو ایک ایسی جانچ ہے جس سے دماغ کی شریانوں کی حالت اور خون کے بہاؤ کے مسائل کا پتہ چلتا ہے۔
وینٹیلیٹر پر ہیں سلمان خان کے والد
ڈاکٹر جلیل پارکر کے مطابق، فی الحال سلیم خان وینٹیلیٹر پر ہیں۔ صحت کے پیش نظر وینٹیلیٹر سپورٹ ہٹانے اور آئی سی یو سے باہر منتقل کرنے پر غور کیا جائے گا۔ ان کا بلڈ پریشر بھی کافی زیادہ تھا، لیکن اب ان کی حالت پہلے سے بہتر ہے اور وہ آہستہ آہستہ صحت یاب ہو رہے ہیں۔
کل اسپتال میں داخل ہوئے تھے سلیم
معلومات کے مطابق، سلیم خان کو 17 فروری کو لیلاوتی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ابتدائی جانچ میں ہائی بلڈ پریشر اور منیمل برین ہیمبریج کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں آئی سی یو میں منتقل کیا اور وینٹیلیٹر سپورٹ فراہم کی۔
سلیم کی صحت پر ڈاکٹروں کی نظر
سلیم خان کی طبیعت خراب ہونے کی خبر کے بعد ان کے خاندان کے افراد اور قریبی لوگ ہسپتال پہنچے۔ ان کے بیٹے سلمان خان اور ارباز خان، بہو شورا خان، بیٹیاں ارپیتا خان شرما اور الویرا خان، پوتے نروان اور ارہان، دونوں بیویاں سلمہ اور ہیلن، جاوید اختر، زیشان صدیقی، اور کئی دیگر شخصیات لیلاوتی اسپتال پہنچیں۔ فی الحال ڈاکٹروں کی ٹیم ان کی صحت پر چوبیس گھنٹے نظر رکھے ہوئے ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


