Bharat Express DD Free Dish

شاہ رخ خان-دیپیکا پادوکون سمیت 7 افراد کے خلاف راجستھان میں دھوکہ دہی کا معاملہ درج

راجستھان کے بھرت پورمیں بالی ووڈ اسٹارشاہ رخ خان اوردیپیکا پادوکون سمیت 7 افراد پرایک دھوکہ دہی کا معاملہ درج ہوا ہے۔ یہ ایف آئی آر بھرت پور کے باشندہ کیرتی سنگھ نے درج کرائی ہے۔

راجستھان کے بھرت پور میں اداکار شاہ رخ خان اور دیپیکا پادوکون سمیت 7 افراد پرایک دھوکہ دہی کا معاملہ درج ہوا ہے۔ یہ شکایت متھرا گیٹ تھانے میں درج کی گئی ہے۔ اس سے شاہ رخ خان اوردیپیکا پادوکون کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ ایف آئی آر بھرت پور کے باشندہ کیرتی سنگھ نے درج کرائی ہے۔

انہوں نے اپنی شکایت میں کہا کہ کچھ وقت پہلے انہوں نے ہنڈئی کمپنی کی ایک کارخریدی، لیکن کارلینے کے پہلے ہی دن سے اس میں تکنیکی خامیاں نظرآنے لگیں۔ باربار شکایت کرنے کے باوجود کمپنی نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ وہ انہیں بارباریقین دہانی کراتے رہے کہ گاڑی ٹھیک ہوجائے گی، لیکن کیا کچھ بھی نہیں۔ بہانہ بناکرانہیں ٹالنے کی کوشش کرتے رہتے۔

سماعت نہ ہونے سے مایوس ہوکرکیس لڑنے کا فیصلہ لیا

کارسازکمپنی کے اس رویے سے تنگ آکرکیرتی سنگھ نے قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نے اس دھوکہ دہی کے خلاف بھرت پور کی سی جے ایم کورٹ میں شکایت درج کرائی۔ اس پرعدالت نے متھرا گیٹ تھانے کوایف آئی آردرج کرنے کا حکم دیا۔ کیرتی سنگھ نے دعویٰ کیا کہ ہنڈئی کمپنی نے اسے ‘مینوفیکچرنگ ڈیفیکٹ’ والی کاربیچی۔

شاہ رخ خان کے اشتہارکودیکھ کرخریدی کار

پولیس نے عدالت کے حکم کے بعد ہنڈئی کمپنی، اس کے افسران اوربرانڈ ایمبیسڈرشاہ رخ خان اوردیپیکا پادوکون سمیت سات افراد کے خلاف دھوکہ دہی کی دفعات میں معاملہ درج کیا۔ اس میں مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔  کیرتی سنگھ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہنڈئی کارشاہ رخ خان اوردیپیکا پادوکون کے اشتہارکودیکھ کرخریدی تھی۔ ایسے میں صارف کا یہ بھروسہ ٹوٹنا سیدھے برانڈ ایمبسڈروں کی جوابدہی کو بھی ظاہرکرتا ہے۔ اس پرآگے کیا کارروائی ہوتی ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ فی الحال شاہ رخ خان یا ان کی ٹیم کی طرف سے اس معاملے پرکوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read