معروف گلوکار اور نغمہ نگار ربی شیرگل اپنے منفرد موسیقی کے انداز کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ’بُلّا کی جانا‘، ’تیرے بن‘، ’چھلا‘ اور ’ہیر‘ جیسے گیتوں نے انہیں موسیقی کی دنیا میں ایک الگ شناخت دلائی ہے۔ تقریباً ایک دہائی قبل ربی شیرگل نے کہا تھا کہ فن آہستہ آہستہ اپنی جگہ کھو رہا ہے اور اس کی جگہ تفریح لے رہی ہے۔ اتنے برس گزرنے کے بعد بھی ان کا ماننا ہے کہ حالات میں کوئی بہت بڑا بدلاؤ نہیں آیا ہے۔
فن کے لیے جگہ پہلے سے کم ہوئی ہے
دراصل، آئی اے این ایس نے جب ربی شیرگل سے گزشتہ 10 برسوں کے دوران فن اور تفریح کے شعبے میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ بڑی حد تک ذاتی نقطۂ نظر کا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق آج بھی فن کے لیے جگہ پہلے کے مقابلے میں کم ہوئی ہے۔ربی شیرگل نے کہا، ’’کیا آپ نے گزشتہ 10 سال میں کوئی سیاسی گانا سنا ہے؟ کیا آپ نے گزشتہ 10 سال میں کوئی سیاسی فلم دیکھی ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب ناظرین خود دے سکتے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ فن کا مطلب صرف لوگوں کو محظوظ کرنا نہیں ہے۔ فن معاشرے، سیاست اور ہمارے آس پاس کی زندگی پر سوال اٹھانے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ فن کسی حد تک غائب ہو گیا ہے۔
موسیقی میں کئی اصناف کا امتزاج
ربی شیرگل کے گیتوں میں پنجابی موسیقی کے ساتھ راک، صوفی اور لوک موسیقی کا امتزاج بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے سب سے زیادہ مقبول گیتوں میں ’بُلّا کی جانا‘ کا نام خاص طور پر لیا جاتا ہے۔ یہ گیت پنجابی صوفی بزرگ بُلّھے شاہ کی شاعری پر مبنی تھا۔ ربی شیرگل نے اسے جدید موسیقی کے انداز میں پیش کیا، جس کے بعد یہ گیت ان کی شناخت کا ایک اہم حصہ بن گیا۔
چھلا سے بالی ووڈ میں بھی بنائی شناخت
ربی شیرگل نے بالی ووڈ میں بھی اپنی آواز کا جادو دکھایا ہے۔ انہوں نے آنجہانی فلم ساز یش چوپڑا کی 2012 میں ریلیز ہونے والی فلم ’جب تک ہے جان‘ کا مشہور گیت ’چھلا‘ گایا تھا۔ اس رومانوی فلم میں شاہ رخ خان، کترینہ کیف اور انوشکا شرما نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔’چھلا‘ کی موسیقی اے آر رحمان نے ترتیب دی تھی، جبکہ اس کے بول معروف نغمہ نگار گلزار نے لکھے تھے۔ یہ گیت بھی ربی شیرگل کے نمایاں فلمی گیتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
