ممبئی: فلم ’کے ڈی: دی ڈیول‘ کے حال ہی میں ریلیز ہونے والے گانے ’سرکے چنر‘ کو لے کر تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس گانے میں سنجے دت اور نورا فتحی پر فلمائے گئے مناظر پر سخت اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
شکایت اور پابندی کا مطالبہ
وکیل اور سماجی کارکن ونیت جندل نے وزارت اطلاعات و نشریات (ایم آئی بی) کے سیکریٹری کو تحریری شکایت بھیجی ہے، جس میں گانے پر فوری پابندی لگانے اور اسے تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
این ایچ آر سی کا نوٹس
دوسری جانب قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے بھی گانے میں مبینہ طور پر قابل اعتراض اور دوہرے معنی والے الفاظ کے استعمال پر نوٹس جاری کیا ہے۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والا یہ گانا سوشل میڈیا پر اپنے بول کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔
گانے کی تفصیلات اور وائرل ویڈیو
گانے کے بول رقیب عالم نے لکھے ہیں، کوریوگرافی پریم نے کی ہے، موسیقی ارجن جنیہ کی ہے جبکہ اسے منگلی نے گایا ہے۔ یوٹیوب پر ریلیز ہونے کے بعد یہ گانا تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
اعتراضات کی نوعیت
ونیت جندل نے اپنی شکایت میں کہا کہ گانے کے بول انتہائی فحش، جنسی اشاروں سے بھرپور اور دوہرے معنی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کچھ مخصوص لائنوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسے عوامی شائستگی کے خلاف قرار دیا۔ ان کے مطابق گانے میں دکھایا گیا اشتعال انگیز رقص اور ویڈیو کی پیشکش فحاشی کو مزید بڑھاوا دیتی ہے، جو خاص طور پر کم عمر ناظرین پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
قانونی کارروائی کا مطالبہ
جندل نے مطالبہ کیا ہے کہ گانے کو فوری طور پر بین کیا جائے، تمام پلیٹ فارمز سے ہٹایا جائے اور کم عمر افراد کو اس طرح کے مواد سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ شکایت میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 294 اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے تحت کارروائی کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
پولیس میں شکایت اور ردعمل کا انتظار
جندل پہلے ہی دہلی پولیس کی سائبر سیل میں سنجے دت، نورا فتحی اور دیگر کے خلاف شکایت درج کرا چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس معاملے پر زبردست بحث جاری ہے، جہاں کچھ لوگ اسے فحش قرار دے رہے ہیں، جبکہ فلم کے پروڈیوسرز یا اداکاروں کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


