Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


اس جیت کے بعد رائل چیلنجرز بنگلورو کی پلے آف میں رسائی کی امیدیں مزید مضبوط ہو گئی ہیں۔ ٹیم نے اب تک 8 میں سے 6 میچ جیتے ہیں اور 12 پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل میں دوسرے نمبر پر موجود ہے،

اتر پردیش میں بھی شدید گرمی نے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ باندا شہر 47.6 ڈگری سیلسیس کے ساتھ ملک کا گرم ترین مقام رہا، جبکہ آگرہ، پریاگ راج اور ہمیرپور میں بھی درجہ حرارت 44 ڈگری سے اوپر ریکارڈ کیا گیا۔

حادثے کے عینی شاہدین نے اس واقعے کو انتہائی خوفناک قرار دیا۔ ایک مسافر سوسان ساریفہ نے بتایا کہ وہ روزمرہ کے معمول کے مطابق کام سے گھر واپس آ رہی تھیں اور ان کی ٹرین بیکاسی تیمور اسٹیشن پر رکی ہوئی تھی کہ اچانک دوسری ٹرین آ کر اس سے ٹکرا گئی۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ “پارک اینڈ رائیڈ” سہولت کا استعمال کریں اور صرف مقررہ ٹیکسی پک اپ اور ڈراپ پوائنٹس کا ہی انتخاب کریں۔ اس کے علاوہ نجی گاڑیوں کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے

ادت راج نے اس رویے کو جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی رہنما خود ہی الزام عائد کرے اور خود ہی فیصلہ سنانے لگے تو پھر عدالتی عمل کی اہمیت کیا رہ جائے گی۔

یہ مجوزہ پیکیج دراصل حکومت کے اس بڑے فریم ورک کا حصہ ہے، جسے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے معاشی اثرات کو کم کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور دیگر جغرافیائی سیاسی عوامل نے ایوی ایشن جیسے حساس شعبے پر دباؤ بڑھا دیا ہے،

ڈاکٹر پریتی اڈانی نے فخر کے ساتھ کہا کہ اسکول کے طلبہ آج بحریہ، تعلیم، کاروبار، کھیل اور فنون جیسے مختلف شعبوں میں اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، “ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ ہم نے کیا بنایا، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے کن لوگوں کو بنایا۔

سپریم کورٹ نے اپنے احکامات کی نقول تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سیکریٹریز اور ڈی جی پیز کو فوری عمل درآمد کے لیے بھیجنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے دو ماہ بعد اس معاملے کی دوبارہ سماعت مقرر کی ہے تاکہ عمل درآمد کی رپورٹ کا جائزہ لیا جا سکے۔

باراسات کی ریلی میں موجود ہجوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جو لوگ اسے ممتا بنرجی کا مضبوط گڑھ کہتے ہیں، وہ آج کی عوامی شرکت دیکھ لیں، جواب خود مل جائے گا۔

راگھو چڈھا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پارٹی سے پہلے بھی کئی تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افراد وابستہ رہے، مگر بعد میں انہوں نے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وہ سب لوگ بھی غلط ہو سکتے ہیں؟