سپریم کورٹ نے ایک عرضی پر نوٹس جاری کیا ہے، جس میں ایسے عوامی نمائندوں سے ضمنی انتخابات پر ہونے والے سرکاری اخراجات وصول کرنے کے لیے نظام بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جو بلا کسی ٹھوس وجہ اپنی نشست سے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دیتے ہیں اور پھر دوبارہ انتخاب لڑتے ہیں۔چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے مرکزی حکومت، الیکشن کمیشن، تمل ناڈو کے چیف الیکشن افسر اور ریاست میں اپنی نشستوں سے استعفیٰ دینے والے 6 سابق ارکان اسمبلی سمیت دیگر فریقوں سے جواب طلب کیا ہے۔یہ عرضی وکیل کے سوتھن نے دائر کی ہے۔ انہوں نے مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جس میں ان کی مفاد عامہ کی عرضی خارج کر دی گئی تھی۔ اس عرضی میں ارکان اسمبلی کے رضاکارانہ استعفوں کے باعث سرکاری خرچ پر ضمنی انتخابات کرانے کے معاملے میں مالی جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
انتخابی اخراجات کی ضمانت کا نظام بنانے کا مطالبہ
عرضی گزار نے ’انتخابی اخراجات کی ضمانت‘ کا نظام شروع کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔ اس نظام کے تحت اگر کوئی رکن اسمبلی قانونی طور پر تسلیم شدہ ٹھوس وجہ کے بغیر استعفیٰ دیتا ہے، تو اسے دوبارہ انتخاب لڑنے سے پہلے ضمنی انتخاب پر آنے والے خرچ کے برابر رقم جمع کرانی ہوگی۔انہوں نے ایسے ارکان اسمبلی کے انتخاب لڑنے پر 5 سال کی نااہلی عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ 4 مئی کو تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے چند ہفتوں کے اندر ہی آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کژگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے 6 ارکان اسمبلی نے اپنی نشستوں سے استعفیٰ دے دیا اور بعد میں حکمراں جماعت میں شامل ہوگئے۔ان ارکان کے استعفے ایسے وقت میں سامنے آئے، جب ان میں سے کچھ کے خلاف اعتماد کی تحریک کے دوران پارٹی وہپ کے خلاف ووٹ دینے کے الزام میں نااہلی کی کارروائی شروع کی گئی تھی۔
ضمنی انتخابات سے سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ کا دعویٰ
عرضی کے مطابق، استعفوں کی وجہ سے ارکان اسمبلی کو زیر التوا کارروائی سے بچنے اور الگ سیاسی جماعت کے تحت دوبارہ انتخاب لڑنے کا موقع ملا۔ اس کے ساتھ ہی ان استعفوں کے نتیجے میں ہونے والے ضمنی انتخابات سے سرکاری خزانے پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑا۔عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 2004 میں انتخابی اصلاحات سے متعلق اپنی تجاویز میں سفارش کی تھی کہ اپنی نشستیں چھوڑنے اور اس کے نتیجے میں ضمنی انتخابات کرانے کا سبب بننے والے امیدواروں کو متعلقہ اخراجات برداشت کرنے چاہئیں۔ تاہم، یہ سفارش اب تک نافذ نہیں کی گئی ہے۔مدراس ہائی کورٹ سے راحت نہ ملنے کے بعد عرضی گزار نے سپریم کورٹ کا رخ کیا۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ مالی ضمانت اور 5 سال کی نااہلی سے متعلق مجوزہ اقدامات انتخابی قوانین میں نئی دفعات شامل کرنے کے مترادف ہوں گے۔
ہائی کورٹ کے مطابق، مطلوبہ راحت میں ایک نیا مالی اور تعزیری نظام قائم کرنا شامل ہے، جو عدالتی ہدایات کے بجائے قانون سازی کی پالیسی کے دائرے میں آتا ہے۔ہائی کورٹ نے 24 ستمبر کو کہا تھا، ’’کسی قانون ساز نشست سے استعفیٰ دینے کا حق خود ایوان کی رکنیت کو کنٹرول کرنے والے آئینی نظام کا ایک حصہ ہے اور عدالتی حکم کے ذریعے اس پر قانون سے ہٹ کر اضافی شرائط عائد نہیں کی جا سکتیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

