بی جے پی کے سینئر لیڈر، راجیہ سبھا کے رکن اور بھارت۔یو اے ای ارکانِ پارلیمنٹ دوستی گروپ کے رکن انجینئر غلام علی کھٹانہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت کی ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قیادت میں بھارت کی خارجہ پالیسی کو ایک فعال، نتیجہ خیز اور اسٹریٹجک ترجیحات پر مرکوز پالیسی میں تبدیل کیا گیا ہے، جو قومی ترقی، عالمی روابط اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے رہی ہے۔ انجینئر کھٹانہ نے کہا کہ بھارت اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا مضبوط ہونا وزیر اعظم مودی کے سفارتی وژن کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ وژن بھارت کے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے باہمی احترام، مشترکہ خوش حالی، علاقائی استحکام اور تعمیری بین الاقوامی روابط کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں بھارت نے اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو نمایاں طور پر وسعت دی ہے، اسٹریٹجک روابط کو مضبوط کیا ہے اور بین الاقوامی معاملات میں ایک قابلِ اعتماد اور ذمہ دار آواز کے طور پر اپنی حیثیت کو مستحکم کیا ہے۔ یو اے ای کے ساتھ بھارت کی بڑھتی ہوئی شراکت داری اسی سفارتی حکمت عملی کی ایک نمایاں مثال ہے، جس کی بنیاد باہمی اعتماد، اقتصادی ہم آہنگی اور امن و خوش حالی کے مشترکہ عزم پر قائم ہے۔ بھارت حکومت اور یو اے ای کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کے درمیان مسلسل سفارتی رابطوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انجینئر کھٹانہ نے کہا کہ اعلیٰ سطح کی باقاعدہ ملاقاتوں اور بات چیت نے دوطرفہ تعاون کو نئی رفتار دی ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے مشترکہ عزم کو بھی تقویت ملی ہے۔
دوطرفہ تجارت 100 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز
انجینئر کھٹانہ نے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سیپا) کے نفاذ کے بعد بھارت اور یو اے ای کے درمیان دوطرفہ تجارت کے 100 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرنے کو ایک اہم کامیابی قرار دیا۔ ان کے مطابق، یہ پیش رفت بھارت کی اقتصادی سفارت کاری کی افادیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی، ٹیکنالوجی، اختراع اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے سے دونوں ممالک کے تاجروں، کاروباری اداروں، نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انجینئر کھٹانہ نے مزید کہا کہ وزیر اعظم مودی کی خارجہ پالیسی اسٹریٹجک خودمختاری اور فعال عالمی شمولیت کے درمیان توازن قائم کرتی ہے۔ اس کے ذریعے بھارت اپنی قومی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی امن، استحکام اور ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، بھارت کے بڑھتے ہوئے سفارتی روابط ایک ایسے پراعتماد ملک کی عکاسی کرتے ہیں جو برابری، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات استوار کرتا ہے۔
خلیجی خطے میں امن و استحکام پر زور
خلیجی خطے میں امن اور استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انجینئر کھٹانہ نے کہا کہ بھارت مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کرتا رہا ہے، جو اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے اس کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی استحکام عالمی معیشت کی مضبوطی، توانائی کے تحفظ، غذائی تحفظ اور بین الاقوامی تجارت و سپلائی چین کی بلا تعطل نقل و حرکت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے یو اے ای کی قیادت کی جانب سے وہاں مقیم بڑی بھارتی برادری کی مسلسل دیکھ بھال اور حمایت کے لیے بھی اظہارِ تشکر کیا۔ ان کے مطابق، بھارتی تارکینِ وطن دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم رابطے کا ذریعہ ہیں۔ یو اے ای کی ترقی میں ان کی خدمات اور بھارت کے ساتھ ان کے مضبوط ثقافتی و خاندانی تعلقات دوطرفہ دوستی کی بنیاد کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔
مودی کی خارجہ پالیسی نے تعلقات کو نئی وسعت دی
انجینئر کھٹانہ نے کہا کہ بھارت۔یو اے ای تعلقات کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیر اعظم مودی کی خارجہ پالیسی روایتی سفارتی روابط سے آگے بڑھ کر ایک جامع شراکت داری کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں اقتصادی ترقی، اسٹریٹجک تعاون، عوامی روابط اور علاقائی و عالمی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ انہوں نے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کی مؤثر سفارتی کوششوں اور وزیر اعظم کے خارجہ پالیسی وژن کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے ان کی مسلسل کاوشوں کی بھی ستائش کی۔ انجینئر کھٹانہ نے کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارتی سفارت کاری کو نیا مقصد، اعتماد اور عالمی سمت عطا کی ہے۔ ان کی دور اندیش قیادت نے اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ بھارت کے تعلقات کو مضبوط کیا، اقتصادی مواقع کو وسعت دی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی آواز کو مزید مؤثر بنایا ہے۔ بھارت۔یو اے ای کی بڑھتی ہوئی جامع اسٹریٹجک شراکت داری اسی پالیسی کی واضح عکاس ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ مسلسل سفارتی رابطوں، باہمی اعتماد اور ترقی کے مشترکہ عزم کے ذریعے دونوں ممالک کے لیے بامعنی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ دیرپا دوستی تعاون کے نئے راستے کھولتی رہے گی اور خلیجی خطے سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں امن، استحکام اور خوش حالی کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگی۔‘‘ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بھارت اسٹریٹجک تعاون کو مزید گہرا کرنے، اقتصادی اور ثقافتی روابط کو وسعت دینے، مشترکہ مفادات کے تحفظ اور دونوں ممالک کی مشترکہ امنگوں کو آگے بڑھانے کے لیے یو اے ای کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔ انجینئر کھٹانہ نے مزید کہا کہ پارلیمانی سفارت کاری، ادارہ جاتی تبادلے اور عوامی سطح پر مضبوط روابط اس تاریخی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



