Bharat Express DD Free Dish

Italy Protests: اٹلی میں جنریشن الفا کا ہنگامہ، 4,400 کروڑ روپے کی املاک جل کر خاکستر، میلونی نے کسے ٹھہرایا ذمہ دار؟

ہفتہ کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات سامنے آئے۔ رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے تقریباً 4,400 کروڑ روپے کی املاک کو نقصان پہنچایا اور کئی مقامات پر آگ لگا دی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان مظاہروں کی قیادت بڑی تعداد میں جنریشن الفا سے تعلق رکھنے والے نوجوان اور طلبہ کر رہے ہیں۔

اٹلی ان دنوں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا سامنا کر رہا ہے۔ ان مظاہروں کا اثر براہ راست وزیر اعظم جارجیا میلونی کی حکومت پر پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ ہفتہ کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات سامنے آئے۔ رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے تقریباً 4,400 کروڑ روپے کی املاک کو نقصان پہنچایا اور کئی مقامات پر آگ لگا دی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان مظاہروں کی قیادت بڑی تعداد میں جنریشن الفا سے تعلق رکھنے والے نوجوان اور طلبہ کر رہے ہیں۔ ایک خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اتوار کو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 200 افراد کو حراست میں لیا۔ گرفتار کیے گئے افراد میں بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جن کی عمر تقریباً 16 سال بتائی جا رہی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر قانونی طور پر نابالغ ہیں۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے سکیورٹی بڑھا دی ہے اور کئی علاقوں میں اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔

وزیر اعظم میلونی کی امن برقرار رکھنے کی اپیل

بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان وزیر اعظم جارجیا میلونی نے عوام سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور امن و قانون کی صورت حال برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا کسی بھی صورت میں ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ میلونی نے پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث افراد کو مظاہرین کے بجائے فسادی قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کا الزام ہے کہ حکومت تعلیم کے مقابلے میں دفاع اور ہتھیاروں پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ اسی مخالفت کے تحت مظاہرین ’’نو ویپنز‘‘ یعنی ہتھیار نہیں، کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ یہ تحریک ایسے وقت میں تیز ہوئی ہے جب اٹلی میں 2027 کے عام انتخابات کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ ایسے میں اس معاملے کو سیاسی اعتبار سے بھی کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

تعلیم اور دفاعی بجٹ پر اٹھے سوالات

اعداد و شمار کے مطابق، اٹلی نے سال 2024 کے دوران اپنی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 4 فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کیا تھا۔ یہ رقم تقریباً 97 ارب ڈالر، یعنی لگ بھگ 9.21 لاکھ کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ اسی مدت کے دوران ہتھیاروں کی خریداری پر تقریباً 30 ارب ڈالر، یعنی لگ بھگ 2.8 لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ اٹلی کا مجموعی دفاعی بجٹ تقریباً 50 ارب ڈالر، یعنی لگ بھگ 4.75 لاکھ کروڑ روپے رہا۔ رپورٹس کے مطابق، یہ فیصلہ امریکہ اور نیٹو کے دباؤ کے درمیان کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم میلونی نے پورے معاملے کی ذمہ داری بائیں بازو کے لیڈروں پر عائد کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی سوچ سے وابستہ لیڈروں نے نوجوانوں کو اکسایا، جس کے نتیجے میں حالات پرتشدد ہوگئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آتش زنی اور توڑ پھوڑ میں ملوث گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔

فرانس میں بھی احتجاج نے پکڑا زور

اٹلی یورپ کا واحد ملک نہیں ہے جہاں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ پڑوسی ملک فرانس میں بھی اسی طرح کے مظاہرے دیکھنے کو ملے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، اتوار کو فرانس میں 1,500 سے زیادہ دکانوں میں آگ لگانے کے واقعات درج کیے گئے۔ مسلسل بڑھتے ہوئے مظاہروں نے یورپ کے کئی ممالک کی حکومتوں کے سامنے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read