اتر پردیش کے ضلع اناؤ میں جمعہ کو ایک بڑا سڑک حادثہ ہوتے ہوتے ٹل گیا۔ لکھنؤ-کانپور ہائی وے پر چلتی اے سی بس میں اچانک آگ لگ گئی، جس سے موقع پر افراتفری مچ گئی۔ خاص بات یہ ہے کہ بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں کو کانپور واپس جا رہے تھے۔ خوش قسمتی سے ڈرائیور اور بس عملے نے بروقت سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام بچوں کو بحفاظت نیچے اتار لیا، ورنہ کوئی بڑا حادثہ پیش آ سکتا تھا۔
دھواں اٹھتے ہی مچی چیخ و پکار
یہ واقعہ اناؤ صدر کوتوالی علاقے میں گدن کھیڑا چوراہے کے قریب سروس روڈ پر پیش آیا۔ کانپور کے کلیان پور میں واقع ایک اسکول کے بچے نجی ٹریول کمپنی کی اے سی بس میں پکنک منانے گئے تھے۔ واپسی کے دوران جب بس لکھنؤ سے کانپور کی طرف جا رہی تھی، تبھی اچانک اس کے انجن سے دھواں نکلنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ کے بلند شعلے اٹھنے لگے۔ بس کے اندر دھواں بھرنے کے ساتھ ہی بچوں میں چیخ و پکار مچ گئی اور موقع پر افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔
ڈرائیور کی سمجھ داری سے سب کی جان بچی
صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے بس ڈرائیور نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر گاڑی روک دی اور عملے کی مدد سے تمام بچوں کو تیزی سے باہر نکالنا شروع کردیا۔ بچوں کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے فوری طور پر پوری بس خالی کرا لی گئی۔ تمام بچوں کے بحفاظت باہر نکل آنے کے بعد لوگوں نے راحت کی سانس لی، کیونکہ کچھ ہی دیر میں آگ نے پوری بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وہ دھو دھو کرکے جلنے لگی۔
فائر بریگیڈ نے آگ پر قابو پایا
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے کافی مشقت کے بعد آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا۔ ابتدائی تحقیقات میں شارٹ سرکٹ کو آگ لگنے کی اہم وجہ مانا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد بچوں کے اہل خانہ بھی کافی خوف زدہ ہیں، تاہم تمام بچوں کے بحفاظت بچ جانے سے سبھی نے راحت کی سانس لی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



