مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے مدھیہ پردیش کے دورے کے دوران مویشی پالنے والوں اور ڈیری کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے کئی منصوبوں اور پروجیکٹس کا اعلان کیا۔ بھوپال کے بی ایچ ای ایل دشہرہ میدان میں منعقدہ گوپالک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کانگریس پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے طویل عرصے تک منفی سیاست کی، جبکہ موجودہ مرکزی حکومت کی توجہ دیہی معیشت کو مضبوط کرنے اور مویشی پالنے والوں کی آمدنی بڑھانے پر ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ آزادی کے بعد سے ہی کسانوں اور دیہی علاقوں سے وابستہ لوگوں کا مطالبہ رہا تھا کہ کوآپریٹو شعبے کے لیے الگ وزارت قائم کی جائے۔ ان کے مطابق یہ مطالبہ طویل عرصے تک پورا نہیں ہوا، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے الگ وزارتِ تعاون قائم کرکے اس سمت میں کام شروع کیا۔
دودھ کی فروخت میں بیچولیوں کا مسئلہ اٹھایا
امت شاہ نے دودھ کی فروخت میں بیچولیوں کے کردار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کھلی مارکیٹ میں دودھ فروخت کرنے والے مویشی پالنے والوں کو کئی مرتبہ ان کی محنت کا پورا فائدہ نہیں مل پاتا۔ ان کے مطابق، کوآپریٹو نظام سے جڑنے پر کسانوں اور مویشی پالنے والوں کو دودھ کی بہتر قیمت مل سکتی ہے اور درمیان میں ہونے والی کٹوتی بھی کم کی جاسکتی ہے۔
اجین میں 255 کروڑ روپے کے ڈیری پلانٹ کی بنیاد
پروگرام کے دوران امت شاہ نے اجین میں تقریباً 255 کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والے دودھ پروسیسنگ پلانٹ کا بھومی پوجن کیا۔ اس کے علاوہ بھوپال میں پلانٹ لیبارٹری اور شیوپوری میں منی ڈیری پلانٹ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ بھوپال اور اندور کے مویشی پالنے والوں کی یونینوں سے وابستہ افراد میں تقریباً 12 کروڑ روپے کا بونس بھی تقسیم کیا گیا۔ پروگرام کے دوران ’گوپال دیدی‘ کو اعزاز سے نوازا گیا۔ امت شاہ نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں بڑی تعداد میں گوپالکوں کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ریاست میں دودھ کی پیداوار کے شعبے میں لوگوں کی شمولیت بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اسے ’شروت کرانتی 2.0‘ کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
دودھ سے صرف فروخت نہیں، پروسیسنگ پر بھی زور
مرکزی وزیر نے کہا کہ دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے صرف دودھ جمع کرنا کافی نہیں ہے۔ دودھ سے آئس کریم، مکھن، گھی، پنیر اور مَوا جیسے مختلف مصنوعات تیار کرکے انہیں بڑی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے بہتر پروسیسنگ اور بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے گوبر سے بایو گیس اور نامیاتی کھاد تیار کرنے کے ساتھ ساتھ دودھ سے متعلق مصنوعات کی پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کا مکمل نظام قائم کرنے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے دیہی علاقوں میں روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔
ملک میں دودھ کی پیداوار میں بڑا اضافہ
امت شاہ نے ملک میں دودھ کی پیداوار میں اضافے کے اعداد و شمار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 15-2014 میں بھارت میں تقریباً 14.60 کروڑ ٹن دودھ پیدا ہوتا تھا، جو گزشتہ 10 برسوں میں بڑھ کر تقریباً 25 کروڑ ٹن تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے اسے مویشی پالنے والوں اور ڈیری شعبے کے لیے حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ امت شاہ نے یہ بھی کہا کہ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ دودھ پیدا کرنے والا ملک ہے۔ دودھ کی پیداوار کے معاملے میں اتر پردیش، راجستھان، مدھیہ پردیش، گجرات اور مہاراشٹر کو انہوں نے نمایاں ریاستوں میں شمار کیا۔ اسی دوران انہوں نے کانگریس پر الزام عائد کیا کہ اس کی سیاست کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے مسائل پر مثبت کام کرنے کے بجائے مخالفت تک محدود رہی ہے۔
نئے فوجداری قوانین پر بھی امت شاہ نے کیا خطاب
بھوپال میں فوجداری انصاف کے نئے قوانین پر منعقدہ نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے امت شاہ نے نئے فوجداری قوانین کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی دور میں بنائے گئے قوانین اس وقت کی حکومت اور نظامِ حکمرانی کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے تھے۔ امت شاہ کے مطابق، نئے قوانین کا مقصد عام شہری کی عزت، جان اور املاک کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان قوانین کی بنیادی روح صرف سزا دینا نہیں بلکہ انصاف کو یقینی بنانا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



