Bharat Express DD Free Dish

Adani Green Energy: اڈانی گرین انرجی نے صرف 14 ماہ میں بیٹری اسٹوریج کی صلاحیت 6.63 گیگاواٹ گھنٹے تک بڑھائی

اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (اے جی ای ایل) نے جمعرات کو بتایا کہ اس نے گجرات کے کھاوڑا میں اپنی آپریشنل بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) کی صلاحیت کو جون 2026 میں موجود 3.55 گیگاواٹ گھنٹے سے بڑھا کر 6.63 گیگاواٹ گھنٹے کر دیا ہے۔

ملک کی سب سے بڑی قابل تجدید توانائی کمپنی کے پاس اب بھارت کی تقریباً 12.6 گیگاواٹ گھنٹے کی آپریشنل بی ای ایس ایس صلاحیت کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ ہے۔

14 ماہ میں حاصل کی بڑی اسٹوریج صلاحیت

اڈانی گرین انرجی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ساگر اڈانی نے کہا کہ صرف 14 ماہ میں 6.63 گیگاواٹ گھنٹے کی آپریشنل بیٹری اسٹوریج صلاحیت حاصل کرنا اے جی ای ایل اور بھارت کی صاف توانائی کی منتقلی کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سطح کا توانائی ذخیرہ قابل تجدید ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کو زیادہ مستحکم، قابل اعتماد اور ضرورت کے وقت گرڈ میں دستیاب بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ ساگر اڈانی نے کہا کہ بھارت میں بجلی کی طلب میں اضافے کے ساتھ کمپنی بیٹری اور پمپڈ اسٹوریج، دونوں طرح کے توانائی ذخیرہ کرنے کے حل کو وسعت دیتی رہے گی، تاکہ زیادہ مضبوط اور کم کاربن والے بجلی گرڈ کو مدد فراہم کی جا سکے۔

20 لاکھ گھروں کو ایک دن تک بجلی

کمپنی کے مطابق 6.63 گیگاواٹ گھنٹے کی بی ای ایس ایس صلاحیت اتنی صاف توانائی ذخیرہ کر سکتی ہے کہ تقریباً 20 لاکھ گھروں کو ایک دن تک بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ناگپور، پٹنہ یا وشاکھاپٹنم جیسے شہروں کی بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب کو کئی گھنٹوں تک پورا کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ کھاوڑا میں موجود یہ بی ای ایس ایس صلاحیت 1.5 لاکھ سے زیادہ درمیانے درجے کی برقی گاڑیوں کی بیٹری اسٹوریج صلاحیت کے برابر ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ روزانہ اتنی توانائی ذخیرہ کر سکتی ہے جو دہلی میٹرو کی اندازاً روزانہ بجلی کی ضرورت سے تقریباً دو گنا ہے۔

قابل تجدید توانائی کو گرڈ سے جوڑنے میں مدد

اے جی ای ایل نے کہا کہ بی ای ایس ایس کی صلاحیت کو 6.63 گیگاواٹ گھنٹے تک بڑھانے سے قابل تجدید توانائی کو گرڈ میں بہتر طریقے سے شامل کرنے میں مدد ملے گی۔ اس نظام کے ذریعے صاف بجلی کو ذخیرہ کرکے ضرورت کے وقت گرڈ میں فراہم کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ کامیابی کھاوڑا کی حیثیت کو ایک ہی مقام پر دنیا کی سب سے بڑی آپریشنل بیٹری انرجی اسٹوریج تنصیب کے طور پر مزید مضبوط کرتی ہے۔

538 مربع کلومیٹر میں 30 گیگاواٹ کا منصوبہ

یہ بی ای ایس ایس کھاوڑا میں اے جی ای ایل کے قابل تجدید توانائی ترقیاتی منصوبے سے منسلک ہے۔ کمپنی یہاں 538 مربع کلومیٹر کے بنجر علاقے میں 30 گیگاواٹ کا قابل تجدید توانائی پلانٹ تیار کر رہی ہے۔بی ای ایس ایس میں لیتھیم آئن بیٹری ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ اسے انرجی مینجمنٹ سسٹم اور خودکار ٹیلی میٹری سے جوڑا گیا ہے، جو بیٹری کی چارجنگ اور ڈسچارجنگ کو کنٹرول کرنے، نظام کی کارکردگی بہتر بنانے اور گرڈ سے متعلق خدمات میں مدد فراہم کرتا ہے۔

5 سال میں 50 گیگاواٹ گھنٹے اسٹوریج کا ہدف

بیٹری اسٹوریج سے گرڈ کے استحکام میں اضافہ، بجلی کی زیادہ طلب کو منظم کرنے، توانائی کے ضیاع کو کم کرنے اور ضرورت کے وقت قابل تجدید توانائی دستیاب کرانے میں مدد مل سکتی ہے۔اے جی ای ایل نے کہا کہ وہ مالی سال 2026-27 میں 10 گیگاواٹ گھنٹے سے زیادہ بی ای ایس ایس صلاحیت شامل کرنے کی راہ پر ہے۔ کمپنی نے اگلے 5 سال میں 50 گیگاواٹ گھنٹے کی توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read