نئی دہلی: الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے سابق جوائنٹ ڈائریکٹر محمد امین نے بدھ کو کہا کہ الیکشن کمشنروں کی جانب سے کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے مبینہ خطوط پروٹوکول کے خلاف تھے۔ ان کے مطابق اگر الیکشن کمشنروں کو کسی معاملے پر خط لکھنا تھا تو انہیں وزارتِ قانون و انصاف یا صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے رابطہ کرنا چاہیے تھا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمشنروں نے الیکشن کمیشن کے بعض فیصلوں پر ریکارڈ میں اعتراضات درج کیے تھے اور یہ فیصلے مبینہ طور پر ان کی معلومات کے بغیر لیے گئے تھے۔
پریس ریلیز جاری کرکے الیکشن کمیشن نے واضح کیا معاملہ
اندرونی اختلافات کی خبروں کے درمیان الیکشن کمیشن نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے ان خطوط کے پس منظر کی وضاحت کی، جو مبینہ طور پر کابینہ سکریٹری کو بھیجے گئے تھے۔ آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے محمد امین نے کہا کہ ملک، جس میں ووٹر اور سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، اس معاملے کی اصل حقیقت جاننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی معاملے پر خط لکھنا ہی تھا تو وزارتِ قانون و انصاف سے رابطہ کیا جانا چاہیے تھا، کیونکہ انتخابی قوانین میں ترمیم کا معاملہ اسی وزارت سے متعلق ہے۔ امین کے مطابق، اگر کابینہ سکریٹری کو کوئی خط لکھا گیا تھا تو یہ پروٹوکول کے خلاف تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے الیکشن کمشنروں کو صدرِ جمہوریہ کو خط لکھنا چاہیے تھا یا ان سے ملاقات کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں کچھ غلط معلومات بھی پھیلائی گئی ہیں اور جو بھی حقیقت ہے، اسے واضح کیا جانا چاہیے۔ محمد امین نے کہا کہ پورے الیکشن کمیشن کو ملک کے سامنے آکر اپنا موقف رکھنا چاہیے، تب ہی لوگوں کو یقین ہوگا کہ کمیشن شفاف طریقے سے کام کر رہا ہے اور کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہے۔
اختلافات کی خبروں کو اپوزیشن اٹھا سکتی ہے
ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے بارے میں محمد امین نے کہا کہ اس سے قبل 2004 میں بھی یہ عمل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 26-2025 میں بہار اور مغربی بنگال میں SIR کرائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے بھی واضح کر چکا ہے کہ SIR کس طریقے سے کرائی جائے، یہ طے کرنا الیکشن کمیشن کا آئینی اختیار ہے۔ تاہم، اگر اس عمل میں کوئی بے ضابطگی پائی جاتی ہے تو سپریم کورٹ اس معاملے پر غور کرسکتا ہے اور الیکشن کمیشن بھی اس کا جائزہ لے سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کی خبروں کے سیاسی اثرات کے بارے میں محمد امین نے کہا کہ اپوزیشن اب ان خبروں کو اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرے گی۔ ان کے مطابق اپوزیشن یہ مؤقف اختیار کرسکتی ہے کہ جن مسائل کو اس نے پہلے اٹھایا تھا، وہ درست تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




