سری نگر: جموں و کشمیر اسمبلی میں مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیر کو شدید ہنگامے کے درمیان منظور کرلی گئی۔ یہ قرارداد وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیش کی تھی۔ قرارداد میں ہندوستانی حکومت سے جموں و کشمیر کو فوری طور پر مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد کی منظوری سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے شدید احتجاج کیا اور بعد میں ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔
1953 سے پہلے کی آئینی حیثیت کے حوالہ پر بی جے پی کو اعتراض
جموں و کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور بی جے پی رکن اسمبلی سنیل شرما نے کہا کہ ان کی پارٹی ریاست کا درجہ بحال کرنے کے معاملے پر مثبت اور تعمیری بحث کے لیے تیار ہے، لیکن قرارداد میں 1953 سے پہلے کی آئینی حیثیت یا خصوصی اختیارات سے متعلق حوالوں کو شامل کرنا بی جے پی کو منظور نہیں ہے۔ دراصل عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں اسمبلی کی 26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو منظور کی گئی سابقہ قراردادوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ 2000 میں منظور کی گئی قرارداد میں جموں و کشمیر کی 1953 سے پہلے کی آئینی حیثیت بحال کرنے کی بات کی گئی تھی، جبکہ 2024 کی قرارداد میں خصوصی حیثیت اور آئینی ضمانتوں کی بحالی کے لیے بات چیت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
بی جے پی کا کہنا ہے کہ وہ مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے، لیکن اس معاملے کو 2000 کی خودمختاری سے متعلق قرارداد یا آرٹیکل 370 سے جوڑنے کی مخالفت کرتی ہے۔ سنیل شرما نے کہا کہ ریاست کے درجے پر دونوں فریقوں کے درمیان بامعنی بحث ہونی چاہیے، تاہم 1953 سے پہلے کی آئینی صورتحال کا حوالہ ان کی پارٹی قبول نہیں کرے گی۔
نعرے بازی، ہنگامہ اور مارشل ایکشن
قرارداد پر بحث کے دوران بی جے پی ارکان نے ایوان میں زوردار نعرے بازی کی اور اسپیکر کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔ کئی بی جے پی ارکان ایوان کے ویل میں پہنچ گئے، جس کے بعد کارروائی میں خلل پڑا۔ احتجاج کے دوران بی جے پی ارکان نے قرارداد کی نقول پھاڑیں اور شدید نعرے بازی کی۔ طویل بحث اور ہنگامے کے بعد قرارداد اکثریتی ووٹ سے منظور کرلی گئی۔ بی جے پی ارکان نے قرارداد کی منظوری سے قبل ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ قرارداد میں ہندوستانی حکومت سے جموں و کشمیر کو فوری طور پر مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
پہلے ہی دن سے ہنگامہ خیز رہا اسمبلی اجلاس
جموں و کشمیر اسمبلی کا موجودہ اجلاس شروع ہونے کے بعد سے ہی ریاست کا درجہ بحال کرنے کے معاملے پر حکمراں جماعت اور بی جے پی کے درمیان اختلافات نمایاں رہے ہیں۔ عمر عبداللہ نے 25 ستمبر کو یہ قرارداد اسمبلی میں پیش کی تھی، جس کے بعد بی جے پی ارکان نے شدید احتجاج کیا تھا۔ حکمراں نیشنل کانفرنس اور اس کی اتحادی کانگریس ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے کی حمایت کر رہی ہیں، جبکہ بی جے پی نے قرارداد میں شامل بعض حوالوں پر اعتراض کیا ہے۔ پیر کو قرارداد منظور ہونے کے بعد اسمبلی کی کارروائی ملتوی کردی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




