نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ’من کی بات‘ پروگرام کی 138ویں قسط میں آسام میں قدرتی ماحول کے تحفظ سے آنے والی مثبت تبدیلی کا ذکر کیا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ قدرت کے تحفظ سے آسام میں مثبت تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ پی ایم مودی نے بتایا کہ آسام میں سونائی روپائی وائلڈ لائف سینکچری ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ علاقہ ہاتھیوں کا مسکن ہوا کرتا تھا اور یہاں بڑی تعداد میں ہاتھی رہتے تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ جنگلات کی زمین پر انسانی مداخلت بڑھتی گئی۔ تجاوزات کی وجہ سے ہاتھیوں نے اس علاقے سے دوری اختیار کر لی اور یہاں ان کی آمد کم ہو گئی۔ تین سال پہلے اس زمین کو تجاوزات سے آزاد کرایا گیا۔ جنگل کو دوبارہ اس کی قدرتی شکل لوٹائی گئی۔ اب اس کے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں۔ ہاتھی ایک بار پھر یہاں واپس آ گئے ہیں۔ پی ایم مودی نے کہا کہ آسام میں ہی ایک اور خوبصورت کوشش کی گئی ہے۔ یہ کوشش ایک انتہائی چھوٹے جانور ’پگمی ہاگ‘ کو بچانے کے لیے ہے۔
صرف 6 پگمی ہاگ سے شروع ہوا تحفظ کا پروگرام
وزیر اعظم نے بتایا کہ ایک وقت تھا جب اس جانور کے وجود پر خطرہ منڈلا رہا تھا۔ ان کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی۔ اس وقت صرف 6 پگمی ہاگ کے ساتھ تحفظ کا ایک پروگرام شروع کیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت انہیں محفوظ طریقے سے پالا گیا اور پھر دوبارہ جنگلات میں آباد کیا گیا۔ ان کے رہنے کے لیے گھاس کے میدانوں کو بھی بہتر بنایا گیا، تاکہ انہیں ان کا قدرتی مسکن واپس مل سکے۔ آج اس پروگرام کی وجہ سے پگمی ہاگ کی تعداد بڑھ کر 190 سے زیادہ ہو چکی ہے۔ یہ جنگلی حیات کے تحفظ کی سمت میں ایک بڑی کامیابی ہے۔
ہاتھیوں کی واپسی صحت مند جنگلات کی علامت
واضح رہے کہ ہاتھی ماحولیاتی نظام یعنی ایکو سسٹم کو صحت مند اور متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں ’ایکو سسٹم انجینئر‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی واپسی جنگل کے صحت مند ہونے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ وہیں پگمی ہاگ دنیا میں جنگلی سؤر کی سب سے چھوٹی اور نایاب نسلوں میں سے ایک ہے، جو ہمالیہ کے دامن میں موجود بلند و بالا زرخیز گھاس کے میدانوں میں پائی جاتی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



